سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب الْعَجْمَاءُ وَالْمَعْدِنُ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ
باب: اگر بے زبان جانور کسی کو زخمی کر دے اور آدمی کان یا کنواں اپنی زمین میں کھدوائے اور اس میں کوئی مر جائے تو ان چیزوں میں تاوان لازم نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جُرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْعَجْمَاءُ الْمُنْفَلِتَةُ الَّتِي لَا يَكُونُ مَعَهَا أَحَدٌ، وَتَكُونُ بِالنَّهَارِ لَا تَكُونُ بِاللَّيْلِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کسی کو زخمی کر دے تو اس میں ہرجانہ نہیں ہے، کان میں ہلاک ہونے والے کا ہرجانہ نہیں ہے اور کنواں میں ہلاک ہو جانے والے کا ہرجانہ نہیں ہے ۱؎ اور رکاز میں پانچواں حصہ دینا ہو گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جانور سے مراد وہ جانور ہے جو چھڑا کر بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور دن ہو، رات نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4593]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کر دینا، معدنی کان میں حادثہ ہو جانا یا کنویں میں گر پڑنا سب ضائع ہیں اور اگر کسی کو کوئی دفینہ ملے تو اس میں خمس ہے۔“ (پانچواں حصہ ادا کرنا شرعی حق ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جانور جب بھاگ گیا ہو اور اس کے ساتھ کوئی نہ ہو اور یہ حادثہ دن کے وقت ہوا ہو رات میں نہ ہوا ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (3085)، (تحفة الأشراف: 13128، 15147) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جانور کسی کو زخمی کر دے یا کان اور کنویں میں گر کر کوئی ہلاک ہو جائے تو ان کے مالکوں پر اس کی دیت نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1499) صحيح مسلم (1710)