صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثَلاَثًا فِي السَّفَرِ:
باب: مغرب کی نماز سفر میں بھی تین ہی رکعت ہیں۔
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ، قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، زہری سے انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1091]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ کو دورانِ سفر چلنے میں جلدی ہوتی تو نمازِ مغرب کو مؤخر کر دیتے، پھر اسے عشاء کے ساتھ جمع کر کے ادا فرماتے۔ حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب سفر میں عجلت ہوتی تو وہ بھی ایسا کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1092
وَزَادَ اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَالِمٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ، قَال سَالِمٌ: وَأَخَّرَ ابْنُ عُمَرَ الْمَغْرِبَ وَكَانَ اسْتُصْرِخَ عَلَى امْرَأَتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: سِرْ، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: سِرْ، حَتَّى سَارَ مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ فَيُصَلِّيهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَلَا يُسَبِّحُ بَعْدَ الْعِشَاءِ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ".
لیث بن سعد نے اس روایت میں اتنا زیادہ کیا کہ مجھ سے یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا، کہ سالم نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ جمع کر کے پڑھتے تھے۔ سالم نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز اس دن دیر میں پڑھی تھی جب انہیں ان کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی اطلاع ملی تھی (چلتے ہوئے) میں نے کہا کہ نماز! (یعنی وقت ختم ہوا چاہتا ہے) لیکن آپ نے فرمایا کہ چلے چلو پھر دوبارہ میں نے کہا کہ نماز! آپ نے پھر فرمایا کہ چلے چلو اس طرح جب ہم دو یا تین میل نکل گئے تو آپ اترے اور نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تیزی کے ساتھ چلنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے خود دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (منزل مقصود تک) جلدی پہنچنا چاہتے تو پہلے مغرب کی تکبیر کہلواتے اور آپ اس کی تین رکعت پڑھا کر سلام پھیرتے۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء پڑھاتے اور اس کی دو ہی رکعت پر سلام پھیرتے۔ عشاء کے فرض کے بعد آپ سنتیں وغیرہ نہیں پڑھتے تھے آدھی رات کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1092]
(راویِ حدیث) لیث نے مزید کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی کہ سالم رحمہ اللہ نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مغرب اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں جمع کر کے پڑھتے تھے۔ سالم رحمہ اللہ نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک دفعہ نماز مغرب کو مؤخر کیا جب انہیں ان کی بیوی حضرت صفیہ بنت ابوعبید رحمہا اللہ کے انتقال کی خبر دی گئی۔ میں نے ان سے کہا: نماز کا وقت ہے۔ انہوں نے فرمایا: سفر جاری رکھو۔ پھر میں نے عرض کیا: نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ آپ نے فرمایا: سفر جاری رکھو۔ حتیٰ کہ آپ دو یا تین میل چلے، پھر اتر کر نماز پڑھی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی دیکھا، جب آپ کو سفر کی جلدی ہوتی تو اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ کو سفر کی عجلت ہوتی تو نماز مغرب کی اقامت کہتے اور اس کی تین رکعات ادا کرتے، اس کے بعد سلام پھیر کر کچھ توقف کرتے، پھر نماز عشاء کی اقامت کہتے اور اس کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے۔ اور عشاء کے بعد نفل نماز نہیں پڑھتے تھے، پھر نصف شب کو اٹھتے (اور نماز تہجد ادا فرماتے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَقْصِيرِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1092]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة