سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب مَنْ كَظَمَ غَيْظًا
باب: غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4777
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِن الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ" , قال أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي مَرْحُومٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ.
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4777]
جناب سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غصہ پی جائے جبکہ وہ اس پر عمل درآمد کی قدرت رکھتا ہو تو اللہ اسے قیامت کے دن برسرِ مخلوق بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حورِ عین میں سے جسے چاہے منتخب کر لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”سند کے راوی ابو مرحوم کا نام عبدالرحمٰن بن میمون ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 74 (2021)، صفة القیامة 48 (3493)، سنن ابن ماجہ/الزھد 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 11298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/438، 440) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5088)
أخرجه ابن ماجه (4186 وسنده حسن، عبد الله بن وھب صرح بالسماع عنده)
مشكوة المصابيح (5088)
أخرجه ابن ماجه (4186 وسنده حسن، عبد الله بن وھب صرح بالسماع عنده)
حدیث نمبر: 4778
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: مَلَأَهُ اللَّهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ دَعَاهُ اللَّهُ زَادَ، وَمَنْ تَرَكَ لُبْسَ ثَوْبِ جَمَالٍ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ بِشْرٌ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: تَوَاضُعًا، كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، وَمَنْ زَوَّجَ لِلَّهِ تَعَالَى تَوَّجَهُ اللَّهُ تَاجَ الْمُلْكِ.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: ”اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب (تواضع و فروتنی میں) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4778]
اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کے بیٹے نے اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور مندرجہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا (اور) کہا: ”اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا۔“ مگر اس میں یہ نہیں: ”اللہ اسے بلائے گا۔“ مزید کہا: ”جس شخص نے زینت اور جمال والا لباس ترک کیا، حالانکہ وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو۔“ بشر بن منصور نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وہ اس نے تواضع کی وجہ سے چھوڑا ہو تو اللہ اسے عزت اور کرامت کا جوڑا پہنائے گا، اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے نکاح کر دیا ہو تو اللہ اسے تاجِ شاہی پہنائے گا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15704) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: «من زوج لله» میں مفعول محذوف ہے، اصل عبارت یوں ہے «من زوج من يحتاج إلى الزواج» یعنی جو کسی ایسے شخص کی شادی کرائے گا جو شادی کا ضرورت مند ہو، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا مفعول «كريمته» ہے یعنی جو اپنی بیٹی کی شادی کرے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ «من زوَّج» کے معنی «من أعطى لله اثنين من الأشياء» کے ہیں، یعنی جس نے اللہ کی خاطر کسی کو دو چیز دی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن عجلان عنعن وشيخه سويد بن وھب مجهول (تق: 2701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
ابن عجلان عنعن وشيخه سويد بن وھب مجهول (تق: 2701)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
حدیث نمبر: 4779
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4779]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ زبردست پہلوان (بہت زیادہ پچھاڑنے والا) کسے کہتے ہو؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 30 (2608)، (تحفة الأشراف: 9193)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2608)