سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب فِي الأَلْقَابِ
باب: القاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4962
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ:" فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَنِي سَلَمَةَ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ سورة الحجرات آية 11 , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا فُلَانُ , فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا الِاسْمِ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11".
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ”ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے“ (الحجرات: ۱۱) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا:“ اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4962]
جناب ابوجبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت کریمہ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ﴾ [سورة الحجرات: 11] ”برے برے ناموں اور لقبوں سے مت پکارو، ایمان لے آنے کے بعد فسق کا نام بہت برا ہے۔“ یہ ہم، بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں تشریف لائے تو ہم میں کوئی ایسا نہ تھا کہ اس کے دو یا تین نام نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بلاتے: ”ارے فلاں!“ تو لوگ کہتے: ”اے اللہ کے رسول! رکیے۔ تحقیق یہ آدمی اس نام سے ناراض ہوتا ہے۔“ چنانچہ آیت «وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ» ”اور ایک دوسرے کو برے لقبوں سے مت پکارو“ اتری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ تفسیر القرآن 49 (3268)، سنن ابن ماجہ/الأدب 35 (3741)، (تحفة الأشراف: 11882)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/69، 260، 5/380) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح