🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. باب فِيمَنْ يَتَكَنَّى بِأَبِي عِيسَى
باب: ابوعیسیٰ کنیت رکھنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4963
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى: أَبَا عِيسَى، وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بابي عِيسَى، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ" أَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، وَإِنَّا فِي جَلْجَتِنَا، فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ".
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎ وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4963]
جناب زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو، جس نے اپنی کنیت ”ابوعیسیٰ“ رکھ لی تھی، سزا دی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کنیت ”ابوعیسیٰ“ رکھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ اپنی کنیت ”ابوعبداللہ“ رکھ لو؟“ انہوں نے بتایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے میری یہ کنیت رکھی تھی۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ اللہ نے بخش دیے ہوئے ہیں اور ہم تو ایک دوسرے جیسے لوگ ہیں۔“ (ہم میں کوئی بھی دوسرے سے افضل و اعلیٰ نہیں) چنانچہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک ”ابوعبداللہ“ ہی کہلاتے رہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11487) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عمر رضی اللہ عنہ نے ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے اس وجہ سے منع کیا کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگ اس وہم میں نہ مبتلا ہو جائیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی کوئی باپ تھا، یہی وجہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ کنیت رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔
۲؎: مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ عام مسلمان ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ ہمارا انجام کیا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں