🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. باب فِي الْعُطَاسِ
باب: چھینک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5029
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ، أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ، وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ" , شَكَّ يَحْيَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5029]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منہ پر اپنا ہاتھ یا کوئی کپڑا رکھ لیتے اور اپنی آواز کو کم رکھتے۔ یحییٰ کو شک ہے کہ روایت میں لفظ «خَفَضَ» تھا یا «غَضَّ» (معنی ایک ہی ہیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 6 (2745)، (تحفة الأشراف: 12581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/439) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4738)
أخرجه الترمذي (2745 وسنده حسن) محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/439)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5030
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ , وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ: رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لیے واجب ہیں، سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5030]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان بھائی کے لیے پانچ باتیں واجب ہیں: سلام کا جواب دینا، چھینک آنے پر دعا دینا، دعوت قبول کرنا، بیمار پرسی کرنا اور جنازے میں شریک ہونا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5030]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 2 (1240 تعلیقًا)، صحیح مسلم/السلام 3 (2162)، (تحفة الأشراف: 13268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/321، 372، 412، 540) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2162)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں