🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. باب مَا جَاءَ فِي التَّثَاؤُبِ
باب: جمائی لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5026
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے، اس لیے کہ شیطان (منہ میں) داخل ہو جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5026]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو چاہیے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے، بلاشبہ (اس میں) شیطان داخل ہو جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الزہد 9 (2995)، (تحفة الأشراف: 4119)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 37، 93، 96)، سنن الدارمی/الصلاة 106 (1422) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2995)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5027
حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ نَحْوَهُ، قَالَ: فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ.
سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے (جب جمائی) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5027]
سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند مروی ہے (مگر اس میں ہے) جمائی اگر نماز میں آئے تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھنے کی کوشش کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4119) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2995)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5028
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5028]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے اور ہاء ہاء کی آواز نہ نکالے۔ بلاشبہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس سے ہنستا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، الأدب 125 (6223)، 126 (6262)، سنن الترمذی/الصلاة 6 15 (370)، الأدب 7 (2747)، (تحفة الأشراف: 14322)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والرقاق 9 (2995)، مسند احمد (2 /265، 428، 517) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں