🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ التَّهَجُّدِ بِاللَّيْلِ:
باب: رات میں تہجد پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1120
وَقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ سورة الإسراء آية 79.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ بنی اسرائیل میں) فرمایا اور رات کے ایک حصہ میں تہجد پڑھ یہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے زیادہ حکم ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: Q1120]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ , قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ , وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ , وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ"، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ، سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن ابی مسلم نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ «اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك ملك السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقولك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومحمد صلى الله عليه وسلم حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت المقدم وأنت المؤخر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا إله إلا أنت، لا إله غيرك» (ترجمہ) اے میرے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے اور حمد تمام کی تمام بس تیرے ہی لیے مناسب ہے آسمان اور زمین اور ان کی تمام مخلوقات پر حکومت صرف تیرے ہی لیے ہے اور تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان اور زمین کا نور ہے اور تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، تیرا فرمان سچا ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت کا ہونا سچ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسہ ہے، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو حکم بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ آگے کرنے والا اور پیچھے رکھنے والا تو ہی ہے۔ معبود صرف تو ہی ہے۔ یا (یہ کہا کہ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ابوسفیان نے بیان کیا کہ عبدالکریم ابوامیہ نے اس دعا میں یہ زیادتی کی ہے ( «لا حول ولا قوة إلا بالله») سفیان نے بیان کیا کہ سلیمان بن مسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1120]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ - أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ» اے اللہ! تو ہی تعریف کے لائق ہے۔ تو ہی آسمان و زمین اور جو ان میں ہے انہیں سنبھالنے والا ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تیرے ہی لیے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے ان کی سربراہی ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تو ہی آسمان و زمین کا نور ہے۔ تو ہی ہر طرح کی تعریف کا سزاوار ہے۔ تو ہی آسمان و زمین کا بادشاہ ہے۔ تیرے ہی لیے تعریف لائق ہے، تو خود بھی سچا ہے۔ اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے تیری ملاقات یقینی اور تیری بات برحق ہے۔ جنت اور دوزخ برحق، تمام انبیاء برحق اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی برحق ہیں، نیز قیامت برحق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا فرماں بردار اور تجھ پر ایمان لایا ہوں، تجھ ہی پر بھروسا کرتا اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تیری ہی مدد کے ساتھ مخالفین سے برسرپیکار ہوں اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں۔ تو میرے اگلے، پچھلے، پوشیدہ اور ظاہری گناہوں کو معاف کر دے۔ تو ہی پہلے تھا اور تو ہی آخر میں ہو گا۔ تیرے سوا کوئی بھی معبود برحق نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ (راوی حدیث) عبدالکریم ابو امیہ نے اس دعا کے آخر میں درج ذیل الفاظ بھی بیان کیے ہیں: «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» اور اللہ کی مدد کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے باز رہنے کی ہمت نہیں۔ سفیان نے کہا کہ سلیمان بن ابومسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں