سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. باب فِي الاِسْتِئْذَانِ
باب: گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعَنَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5171]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں جھانکا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لمبے پھل کا نیزہ لیے ہوئے اس کی جانب اٹھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نیزہ اسے مارنے کے لیے لہرا رہے تھے۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستئذان 11 (6242)، الدیات 15 (6900)،23 (6925)، صحیح مسلم/الآداب 9 (2157)، سنن النسائی/القسامة 40 (4863)، (تحفة الأشراف: 1078)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان 17 (2708)، مسند احمد (3 /108، 140، 239، 242) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6242) صحيح مسلم (2157)
َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ:
َدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ:
حدیث نمبر: 5172
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنِ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَقَدْ هَدَرَتْ عَيْنُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5172]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکا اور انہوں نے اس کی آنکھ پھوڑ دی تو یہ ضائع ہے (اس میں کوئی قصاص نہیں)۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الآداب 9 (2563)، سنن النسائی/القسامة 41 (4864)، (تحفة الأشراف: 12628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/266، 414، 527) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسے کوئی تاوان یا بدل نہیں دینا پڑے گا۔ بعضوں نے کہا ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب اس نے اسے روکا ہو اور وہ نہ رکا ہو اور بعض علماء نے کہاہے کہ تاوان دینا پڑے گا کیونکہ کسی کے گھر میں جھانکنا اس میں بلا اجازت داخل ہونے سے بڑا گناہ نہیں اور بلا اجازت داخل ہونے سے جب آنکھ نہیں پھوڑی جا سکتی تو صرف جھانکنے سے بدرجہ اولیٰ نہیں پھوڑی جا سکتی ان لوگوں نے حدیث کو «مبالغة في الزجر» پر محمول کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2158)
حدیث نمبر: 5173
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ فَلَا إِذْنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں“۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5173]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نظر اندر چلی گئی تو پھر اجازت کیسی؟“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/366) (ضعیف)» (اس کے راوی کثیر بن زید ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه أحمد (2/366) كثير بن زيد والوليد بن رباح كلاھما حسن الحديث
أخرجه أحمد (2/366) كثير بن زيد والوليد بن رباح كلاھما حسن الحديث
حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ هُزَيْلٍ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ، قَالَ عُثْمَانُ: سَعْدٌ، فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ عُثْمَانُ: مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ".
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5174]
سیدنا ہذیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص، اور بقول عثمان بن ابی شیبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگے، عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ وہ دروازے کے عین سامنے کھڑے ہو گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس طرف ہٹ کر کھڑے ہو یا اس طرف، اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہے (کہ انسان اندر نہ جھانکے)۔“ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5174]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
حدیث نمبر: 5175
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدٍ نَحْوَهُ، عَنِ النَّبِيِّ.
سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5175]
طلحہ بن مصرف نے ایک آدمی کے واسطے سے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/أَبْوَابُ النَّوْمِ/حدیث: 5175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179