سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
159. باب فِي قُبْلَةِ الْخَدِّ
باب: گال چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ , قَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَبَّلَ خَدَّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام".
ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5221]
جناب ایاس بن دغفل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے جناب ابونضرہ (منذر بن مالک) رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے رخسار پر بوسہ دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19493) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ:" دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ , فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ , قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا جبکہ یہ لوگ نئے نئے مدینہ آئے تھے، اور ان کی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بخار کی وجہ سے لیٹی ہوئی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے قریب ہوئے اور پوچھا: ”بٹیا تمہارا کیا حال ہے؟“ اور ان کے رخسار پر بوسہ بھی دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6588) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3918)
مشكوة المصابيح (4690)
مشكوة المصابيح (4690)