سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: كَرَاهَةِ مَسِّ الذَّكَرِ بِالْيَمِينِ وَالاِسْتِنْجَاءِ بِالْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ سے شرمگاہ چھونے یا استنجاء کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنی شرمگاہ اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب کوئی شخص پیشاب کرے تو اسے چاہیے کہ عضو خاص کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، والأشربة 25 (5630)، صحیح مسلم/الطہارة 18 (267) سنن ابی داود/الطہارة 18 (31)، سنن الترمذی/ الطہارة 11 (15)، سنن النسائی/ الطہارة 23 (24، 25)، (تحفة الأشراف: 12105)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/296، 300، 310)، سنن الدارمی/الطہارة 13 (700) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لئے آدمی دایاں ہاتھ استعمال نہ کرے تاکہ اس کا وقار و احترام باقی رہے، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عام اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ انہوں نے دائیں ہاتھ سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 310M
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِإِسْنَادِهِ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اوزاعی نے اس طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 310M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، يَقُولُ:" مَا تَغَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا مَسِسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عقبہ بن صہبان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ”جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس ہاتھ کے ذریعہ بیعت کی نہ تو میں نے گانا گایا، اور نہ جھوٹ بولا، اور نہ اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے چھوا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 311]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نہ کبھی گانا گایا، نہ جھوٹ بولا، اور نہ عضوِ خاص کو دائیں ہاتھ سے چھوا، جب سے میں نے اس (ہاتھ) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9831، ومصباح الزجاجة: 126) (ضعیف جدًا)» (اس کی سند میں صلت بن دینار متروک اور ناصبی الحدیث ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی داہنے ہاتھ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر بیعت کرنے کے بعد سے اس کو شرمگاہ سے نہیں لگایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
الصلت بن دينار: متروك ناصبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
إسناده ضعيف جدًا
الصلت بن دينار: متروك ناصبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَطَابَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَسْتَطِبْ بِيَمِينِهِ لِيَسْتَنْجِ بِشِمَالِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے، بلکہ بائیں ہاتھ سے کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 312]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے، اسے اپنے بائیں ہاتھ سے استنجا کرنا چاہیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن النسائی/الطہارة 36 (40)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 20 (155) مناقب الأنصار 32 (3860)، مسند احمد (2/ 247، 250)، سنن الدارمی/الطہارة 14 (701) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن