سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. بَابُ: الأَرْضُ يُصِيبُهَا الْبَوْلُ كَيْفَ تُغْسَلُ
باب: زمین پر پیشاب پڑ جائے تو اسے کیسے دھلے؟
حدیث نمبر: 528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَثَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُزْرِمُوهُ، ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، تو کچھ لوگ اس کی جانب لپکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیشاب نہ روکو اطمینان سے کر لینے دو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا، اور اس پر بہا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 528]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک بدو نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ کچھ لوگ (اسے روکنے کے لئے) اس کی طرف بھاگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پیشاب بند نہ کرو۔“ پھر پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اس پر بہا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 58 (219)، الأدب 35 (6025)، 80 (6128)، صحیح مسلم/الطہارة 30 (284)، سنن النسائی/الطہارة 45 (53)، المیاہ 2 (330)، (تحفة الأشراف: 290)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 12 (147)، مسند احمد (2/229، 282)، سنن الدارمی/الطہارة 62 (767) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" لَقَدِ احْتَظَرْتَ وَاسِعًا"، ثُمَّ وَلَّى، حَتَّى إِذَا كَانَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدَ أَنْ فَقِهَ، فَقَامَ: إِلَيَّ بِأَبِي وَأُمِّي، فَلَمْ يُؤَنِّبْ، وَلَمْ يَسُبَّ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لَا يُبَالُ فِيهِ، وَإِنَّمَا بُنِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ، وَلِلصَّلَاةِ"، ثُمَّ أَمَرَ بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَأُفْرِغَ عَلَى بَوْلِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت فرما دے، اور ہمارے ساتھ کسی اور کی مغفرت نہ کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی اللہ کی مغفرت) کو تنگ کر دیا“، پھر وہ دیہاتی پیٹھ پھیر کر چلا، اور جب مسجد کے ایک گوشہ میں پہنچا تو ٹانگیں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، پھر دین کی سمجھ آ جانے کے بعد (یہ قصہ بیان کر کے) دیہاتی نے کہا: میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، مجھے نہ تو آپ نے ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف یہ فرمایا: ”یہ مسجد پیشاب کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی گئی ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا، تو وہ اس کے پیشاب پر بہا دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 529]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف فرما تھے کہ ایک بدو مسجد میں آیا۔ اس نے کہا: «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ، وَلَا تَغْفِرْ لِأَحَدٍ مَعَنَا» ”اے اللہ! مجھے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بخش دے اور ہمارے ساتھ کسی اور کی بخشش نہ کرنا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”تو نے ایک وسیع چیز (رحمتِ الٰہی) کو محدود کر دیا۔“ پھر وہ (اعرابی) واپس پلٹا۔ ابھی مسجد ہی کے ایک حصے میں تھا کہ (کھڑا ہو کر) پاؤں ایک دوسرے سے دور کر کے پیشاب کرنے لگا۔ اسی اعرابی صحابی رضی اللہ عنہ نے دین کی سمجھ آ جانے کے بعد (اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں! آپ اٹھ کر میرے پاس آئے، مجھے نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، بس یہ فرمایا: ”یہ مسجد ایسی جگہ ہے کہ اس میں پیشاب نہیں کیا جاتا، یہ تو اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔“”پھر آپ نے پانی کا ڈول طلب فرمایا جو پیشاب پر بہا دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15073)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 58 (219)، سنن ابی داود/الطہارة 138 (380)، سنن الترمذی/الطہارة 112 (147)، سنن النسائی/الطہارة 45 (53)، مسند احمد (2/503) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ عِنْدَنَا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي، وَمُحَمَّدًا، وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِكَ إِيَّانَا أَحَدًا، فَقَالَ:" لَقَدْ حَظَرْتَ وَاسِعًا وَيْحَكَ، أَوْ وَيْلَكَ"، قَالَ: فَشَجَ يَبُولُ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعُوهُ ثُمَّ دَعَا بِسَجْلٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ اپنی رحمت میں کسی کو شریک نہ کر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا، افسوس ہے تم پر یا تمہارے لیے خرابی ہے“، واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ پاؤں پھیلا کر پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: رکو، رکو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو“ (پیشاب کر لینے دو)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی منگایا اور اس پر بہا دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 530]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا: «اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِيْ وَمُحَمَّدًا، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا» ”اے اللہ! مجھ پر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت فرما اور ہم پر نازل ہونے والی اپنی رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کرنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس! تو نے لامحدود کو محدود کر دیا۔“ صحابہ کہتے ہیں: وہ اعرابی ٹانگیں کھول کر پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”رُک، رُک۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔“ پھر پانی کا ایک ڈول منگوا کر اس جگہ بہا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11755، ومصباح الزجاجة: 221) (صحیح)» (سند میں عبیداللہ الہذلی ضعیف ہیں، لیکن ابوہریرہ و انس رضی اللہ عنہما کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ ناپاک زمین پر پانی بہانا کافی ہے، اور اسی سے وہ پاک ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:حسن