🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

81. بَابُ: الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ
باب: منی لگے ہوئے کپڑے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الْمَنِيُّ أَنَغْسِلُهُ، أَوْ نَغْسِلُ الثَّوْبَ كُلَّهُ؟ قَالَ سُلَيْمَانُ: قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ ثَوْبَهُ فَيَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فِي ثَوْبِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، وَأَنَا أَرَى أَثَرَ الْغَسْلِ فِيهِ".
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے سلیمان بن یسار سے سوال کیا: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو ہم صرف اتنا ہی حصہ دھوئیں یا پورے کپڑے کو؟ سلیمان نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگ جاتی تو اس حصے کو دھو لیتے، پھر اسی کو پہن کر نماز کے لیے تشریف لے جاتے، اور میں اس کپڑے میں دھونے کا نشان دیکھتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 536]
جناب عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کپڑے کو منی لگ جائے تو کیا ہم صرف اسی حصے کو دھو لیں یا پورا کپڑا دھوئیں؟“ حضرت سلیمان رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو بھی وہ چیز لگ جاتی تھی تو ہم کپڑے کو دھو کر اسے اتار دیتے تھے، پھر وہی کپڑا پہن کر نماز پڑھنے تشریف لے جاتے، اور مجھے کپڑے میں دھونے کا نشان نظر آ رہا ہوتا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 64 (227)، 65 (229)، صحیح مسلم/الطہارة 32 (289) سنن ابی داود/الطہارة 136 (373)، سنن النسائی/الطہارة 187 (296)، سنن الترمذی/الطہارة 187 (117)، (تحفة الأشراف: 16135)، مسند احمد (6/48، 142، 162، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں