سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. بَابٌ في فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ
باب: کپڑے سے منی کھرچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 537
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعض اوقات میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ دیا کرتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 537]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بعض اوقات میں اس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر سے خود اپنے ہاتھ سے کھرچتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 32 (688)، سنن ابی داود/الطہارة 136 (371)، سنن النسائی/الطہارة 188 (298)، (تحفة الأشراف: 17676)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 85 (116)، مسند احمد (6 /67، 125، 135، 213، 239، 263، 0 28) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 538
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" لِمَ أَفْسَدْتَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِكَ، رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي".
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 538]
ہمام بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک مہمان آ گیا۔ انہوں نے (رات کو سونے کے لیے) اسے ایک زرد لحاف دلوا دیا۔ اسے احتلام ہو گیا۔ (صبح کے وقت) اسے اس بات سے شرم محسوس ہوئی کہ وہ کپڑا اس حال میں (ام المومنین کے پاس) بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو۔ اس نے لحاف پانی میں ڈبو کر (گیلا کر کے) بھیج دیا (تاکہ سارا لحاف گیلا ہونے کی وجہ سے وہ نشان نظر نہ آئے۔ صرف متاثرہ حصہ دھونے پر اکتفا نہ کیا)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ (اب یہ اتنا موٹا کپڑا کب خشک ہو گا؟) اگر وہ اسے انگلی سے کھرچ ڈالتا تو کافی ہوتا۔ میں بھی بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے یہ چیز اپنی انگلی سے کھرچ دیا کرتی تھی“۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 85 (116)، (تحفة الأشراف: 17677) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَجِدُهُ فِي ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحُتُّهُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں منی لگی دیکھتی تو اسے کھرچ دیتی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 539]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بعض اوقات مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر وہ چیز نظر آتی تو میں اسے کھرچ کر اتار دیتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 32 (288)، سنن النسائی/الطہارة 188 (302)، (تحفة الأشراف: 15976) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کپڑے میں منی لگ جائے تو اسے دور کرنے کے تین طریقے ہیں، کھرچنا، رگڑنا، اور دھونا، جس طریقے سے بھی اس کا ازالہ ممکن ہو کر سکتا ہے، بعض روایتوں میں اگر منی گیلی ہو تو دھوئے اور سوکھی ہو تو کھرچنے یا رگڑنے کا ذکر ہے، کھرچنے، رگڑنے، یا دھونے سے اگر نشان باقی رہتا ہے تو کوئی حرج نہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے امام ترمذی نے نقل کیا ہے کہ منی کا معاملہ رینٹ اور تھوک جیسا ہے اس کو کھرچنا یا رگڑنا کافی ہے، اور یہی دلیل ہے اس کے پاک ہونے کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم