سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. بَابٌ في الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لاَ يَمَسُّ مَاءً
باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ، وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَيَغْتَسِلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 581]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنابت کی کیفیت پیش آتی تھی، پھر آپ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے، حتیٰ کہ بعد میں اٹھ کر غسل فرما لیتے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 87 (118)، (تحفة الأشراف: 16024)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، مسند احمد (6/43) (صحیح)» (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (228) ترمذي (118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (228) ترمذي (118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
حدیث نمبر: 582
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے اہل سے قربت کی ضرورت محسوس فرماتے تو اپنی یہ حاجت پوری کر لیتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16038) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
ضعيف
انظر الحديث السابق (581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 399
حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُجْنِبُ، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لَا يَمَسُّ مَاءً"، قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيل: يَا فَتَى يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْءٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہیئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 583]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے تھے، تو پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اسی حالت میں سو جاتے تھے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ ”ایک دن میں نے اس حدیث کا ذکر کیا تو اسماعیل نے فرمایا: ”لڑکے! اس حدیث کو کسی چیز سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔“” [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 90 (228)، سنن الترمذی/الطہارة 87 (119)، (تحفة الأشراف: 16023)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 106) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ اس کے راوی ابواسحاق ہیں، اگرچہ وہ ثقہ ہیں،لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديثين السابقين (581،582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
ضعيف
انظر الحديثين السابقين (581،582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400