سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ
باب: عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ" أَوْ قَالَ:" فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لیے کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہو جاؤ گی“، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اس وقت تم پاک ہو گئیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 603]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں سر کے بالوں کی مینڈھیاں مضبوطی سے بناتی ہوں، تو کیا غسل جنابت کے لیے انہیں کھولا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے یہی کافی ہے کہ سر پر پانی کی تین لپیں ڈال لے، پھر اپنے (پورے جسم) پر پانی بہا لے، تو پاک ہو جائے گی۔“ یا فرمایا: ”بس تو پاک ہو گئی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 12 (330)، سنن ابی داود/الطہارة 99 (251)، سنن الترمذی/الطہارة 77 (105)، سنن النسائی/الطہارة 150 (242)، (تحفة الأشراف: 18172)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 289، 315)، سنن الدارمی/الطہارة 115 (1196) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہو گئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہو جاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَأْمُرُ نِسَاءَهُ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْ" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ".
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 604]
حضرت عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اپنی خواتین کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر (کی مینڈھیاں وغیرہ) کھول لیا کریں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے! (کہ وہ عورتوں کو غسل کے لیے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں) وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتے کہ اپنے سر منڈوا لیا کریں۔ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، میں تو اس سے زیادہ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی تھی۔“ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بال کھولنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔) [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 12 (331)، سنن النسائی/الغسل 12 (416)، (تحفة الأشراف: 16324)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/4)، سنن الدارمی/الطہارة 68 (776) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم