سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 831
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ هِيَ: لُبَابَةُ: أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں (ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام ”لبابہ“ ہے): انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 831]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ (حضرت لبابہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا کہ انہوں نے ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں ﴿وَالْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا﴾ [سورة المرسلات: 1] پڑھتے سنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 98 (763)، المغازي 83 (4429)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (462)، سنن ابی داود/الصلاة 132 (810)، سنن الترمذی/الصلاة 114 (308)، سنن النسائی/الافتتاح 64 (987)، (تحفة الأشراف: 18052)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (24)، حم: 6/338، 340، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الطُّورِ"، قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ سورة الطور آية 35 ـ 38 كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے «فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: ”کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے“، (سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 832]
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہٴ طور پڑھتے سنا۔“ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے ایک اور حدیث کے دوران میں فرمایا: ”جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیات ﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ * أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بَلْ لَا يُوقِنُونَ * أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ * أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ﴾ [سورة الطور: 35-38] پڑھتے سنا: ”کیا وہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے (خود بخود) پیدا کیے گئے ہیں؟ یا وہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟ کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ لوگ یقین نہیں رکھتے، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا وہ (ان خزانوں کے) داروغے ہیں؟ یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ وہ اس پر (چڑھ کر آسمان کی باتیں) سن لیتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے“ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 832]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 199 (765)، الجہاد 172 (3050)، المغازي 12 (4023)، تفسیر الطور 1 (4854)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (463)، سنن ابی داود/الصلاة 132 (811)، سنن النسائی/الافتتاح 65 (988)، (تحفة الأشراف: 3189)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (23)، مسند احمد (4/83، 84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1332) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ان آیتوں کے عمدہ مضمون کا اثر دل پر ایسا ہوا کہ دل ہی ہاتھ سے جانے کو تھا، سبحان اللہ ایک تو قرآن کا اثر کیا کم ہے، دوسرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آیتوں کی تلاوت، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شفق کے ختم ہونے تک مغرب کا وقت پھیلا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 833
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 833]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں ﴿قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] تلاوت کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 833]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2722)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 68 (993)، مسند احمد (2/94، 95، 99) (شاذ)» (یہ حدیث شاذ ہے، اس لئے کہ محفوظ اور ثابت حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ا ن دونوں سورتوں کو ”مغرب کی سنت“ میں پڑھتے تھے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 850)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث شاذ یعنی ضعیف ہے، اوپر گزرا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «والمرسلات» اور سورۃ «والطور» جیسی درمیانی سورتیں پڑھی ہیں، مغرب میں ہمیشہ چھوٹی سورتوں کو ہی پڑھنا درست نہیں، بقول علامہ ابن القیم یہ مروان اور اس کے متبعین کی سنت ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أنه كان يقرأ بهما في سنة المغرب
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال ابن عدي: ’’ أحمد بن بديل يروي عن حفص بن غياث وغيره مناكير … و ھو ممن يكتب حديثه مع ضعفه‘‘
(الكامل 189/1،190)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
إسناده ضعيف
قال ابن عدي: ’’ أحمد بن بديل يروي عن حفص بن غياث وغيره مناكير … و ھو ممن يكتب حديثه مع ضعفه‘‘
(الكامل 189/1،190)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408