🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ: التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ:" لَمَّا نَزَلَتْ: فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم»  نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کہا کرو، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى»  نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کہا کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 151 (875، 876)، (تحفة الأشراف: 9909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/155)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1344) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن ایوب منکر الحدیث، اور ایاس بن عامر غیر قوی ہیں اس لئے یہ ضعیف ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی رکوع میں «سبحان ربي العظيمِ» اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 888
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا رَكَعَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع میں  «سبحان ربي العظيم»  تین بار، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى»  تین بار کہتے سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3391)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، التطبیق 74 (1134)، مسند احمد (5/382، 384، 394)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ ادنی درجہ ہے، کم سے کم تین بار کہنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لھيعة ضعيف لإختلاطه يدلس
وأبو الأزھر المصري: مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں  «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817)، المغازي 51 (4293)، تفسیر سورة النصر 1 (4968)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن ابی داود/الصلاة 152 (877)، سنن النسائی/التطبیق10 (1048)، 64 (1123)، 65 (1124)، (تحفة الأشراف: 17635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 49، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قرآن شریف میں ہے «فسبح بحمد ربك واستغفره» ، اس کا مطلب یہی ہے کہ نماز میں یوں کہو: «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفرلي» ، اور جو لفظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کا اہتمام بہتر ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع اور سجدے میں دعا کرنا درست ہے، اور نماز میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور دعا ہو سکے کرے، اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے، اور جو دعائیں حدیث میں وارد ہیں ان کے سوا بھی جو دعا چاہے کرے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 890
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار «سبحان ربي العظيم»  کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار «سبحان ربي الأعلى»  کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا سجدہ مکمل ہو گیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 154 (886)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (261)، (تحفة الأشراف: 9530) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کی سند میں اسحاق بن یزید الہذلی مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: امام ترمذی نے کہا:مستحب ہے کہ آدمی تین بار سے کم تسبیح نہ کرے، اور ابن المبارک نے کہا کہ امام کو پانچ بار کہنا مستحب ہے، تاکہ مقتدی تین بار کہہ سکیں، اور اس سے زیادہ جہاں تک چاہے کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اکیلا نماز پڑھتا ہو، کیونکہ جماعت میں ہلکی نماز پڑھنا سنت ہے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (886) ترمذي (261)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں