🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. بَابُ: سُجُودِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے سجدوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ، فَأَبَيْتُ، فَلِي النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1052]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کا بیٹا سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان ایک طرف ہو کر رونے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! آدم علیہ السلام کے بیٹے کو سجدے کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کر لیا تو اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم ہوا تھا، میں نے (سجدہ کرنے سے) انکار کر دیا تو میرے لیے جہنم ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 35 (81)، (تحفة الأشراف: 12524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ، قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَا حَسَنُ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ: السَّجْدَةَ، فَسَجَدْتُ، فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ احْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا  «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا»  اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ۲؎۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1053]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور عرض کیا: میں نے رات کو خواب دیکھا گویا میں ایک درخت کی طرف (منہ کر کے، اسے سترہ بنا کر) نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں نے (نماز میں) سجدہ کی آیت پڑھی تو سجدہ کیا۔ مجھے سجدہ کرتے دیکھ کر درخت نے بھی سجدہ کیا۔ میں نے اس (درخت) کو (سجدہ میں) یوں کہتے سنا: «اللَّهُمَّ احْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا» اے اللہ! اس سجدے کی وجہ سے میرے گناہوں کا بوجھ اتار دے اور میرے لیے اس کا ثواب لکھ دے اور اسے اپنے پاس میرے لیے ذخیرہ بنا دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے (اس کے بعد) دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی تو سجدہ کیا۔ میں نے آپ کو سجدہ میں وہی دعا پڑھتے سنا جو ان صاحب نے (خواب میں) درخت کی کہی ہوئی بیان کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجمعة 55 (579)، الدعوات 33 (3424)، (تحفة الأشراف: 5867) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یہاں پر شخص سے مراد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں تصریح ہے۔ ۲؎: سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھے، یا «سبحان ربي الأعلى» کہے، یا وہ دعا جو آگے آ رہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ دعا پڑھے: «سبحان ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا سَجَدَ قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي شَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو فرماتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1054]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو کہتے تھے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي شَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری اطاعت قبول کی، تو میرا مالک ہے، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں، اللہ بہت برکتوں والا ہے، بہترین پیدا کرنے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة121 (760)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422)، سنن النسائی/الافتتاح 17 (898)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، 102) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں