سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. . بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ سَاهِيًا
باب: جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1206
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى صَلَاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1206]
حضرت ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، وہ غالباً ظہر کی نماز تھی۔ دوسری رکعت پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم (تشہد کے لیے) بیٹھنے سے پہلے ہی (بھول کر) کھڑے ہو گئے، پھر جب سلام سے پہلے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کر لیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاذان 146 (829)، 147 (830)، السہو1 (1224)، 5 (1230)، الأیمان 15 (6670)، صحیح مسلم/المساجد 19 (570)، سنن ابی داود/الصلاة 200 (1034، 1035)، سنن الترمذی/الصلاة 172 (391)، سنن النسائی/التطبیق 106 (1178، 1179) السہو21 (1223، 1224)، (تحفة الأشراف: 9154)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 17 (65)، مسند احمد (5/345، 346)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ لَهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ فِي ثِنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ".
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو گئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1207]
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ (تشہد کے لیے) بیٹھنا یاد نہ رہا۔ (باقی نماز پڑھنے کے بعد) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے سوا باقی نماز سے فارغ ہو گئے تو سہو کے دو سجدے کر لیے اور سلام پھیر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ترک سنت سے بھی سجدہ سہو ہوتا ہے، کیونکہ (تشہد) قعدہ اولیٰ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1208
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1208]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص دو رکعتیں پڑھ کر (التحیات پڑھے بغیر) اٹھ کھڑا ہو اور ابھی پوری طرح کھڑا نہ ہوا ہو (کہ یاد آ جائے) تو وہ بیٹھ جائے۔ اگر پوری طرح کھڑا ہو چکا ہو (پھر یاد آئے) تب نہ بیٹھے (زائد رکعت پوری کر کے) سہو کے سجدے کر لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 201 (1036)، سنن الترمذی/الصلاة 152 (364 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 25 115) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے، اگرچہ قیام کے قریب ہو گیا ہو، اور بعض فقہاء نے کہا کہ قیام کے قریب ہو گیا ہو تو بھی نہ بیٹھے، اور حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن