🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

142. . بَابُ: مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ
باب: مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: لَمَّا ثَقُلَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ تَعْنِي: رَقِيقٌ، وَمَتَى مَا يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ،" فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے (ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (تو بہتر ہو) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1232]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی۔۔۔ اور ابو معاویہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہوگئی۔۔۔ تو (ایک دن) حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز (کا وقت ہو جانے) کی اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو، لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ ہم (امہات المومنین) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے تو (رقت طاری ہو جانے کی وجہ سے) رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے، آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دے دیں تو وہ نماز پڑھا دیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ ام المومنین بیان کرتی ہیں: چنانچہ ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے نماز پڑھانا شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس ہوا، چنانچہ آپ دو آدمیوں کا سہارا لے کر نماز کے لیے تشریف لے آئے، آپ کے قدموں (کے زمین پر جم کر نہ رکھے جا سکنے) کی وجہ سے زمین پر لکیر بنتی جا رہی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم (آگے) تشریف لے آئے حتیٰ کہ دونوں اصحاب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر بٹھا دیا، چنانچہ (یہ نماز اس طرح ادا کی گئی) ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور (تمام) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، 67 (712)، 68 (713)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (418)، ن الکبري/الأمانة 40 (907)، (تحفة الأشراف: 15945)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (83)، مسند احمد (5/261، 6/210، 224)، سنن الدارمی/المقدمة 14 (83) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً، فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1233]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ وہ نمازیں پڑھاتے رہے۔ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افاقہ محسوس کیا تو آپ (حجرہٴ مبارک سے) باہر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا: اپنی جگہ رہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ان کے برابر بیٹھ گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور دوسرے لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 47 (683)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، (تحفة الأشراف: 16979)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/231) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ : أَنْبَأَنَا، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ يَبْكِي لَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ:" مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ:" انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ"، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكِصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ،" ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے (تو بہتر ہوتا)! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر (مسجد جا سکوں) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1234]
حضرت سالم بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیماری کی حالت میں بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال سے کہو کہ اذان دیں اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (دوبارہ) بے ہوشی طاری ہو گئی۔ افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال سے کہو کہ اذان دیں اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر (تیسری بار) بے ہوشی طاری ہو گئی۔ افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال سے کہو کہ اذان دیں اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ابا جان نرم دل آدمی ہیں، جب اس مقام پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ اگر آپ کسی اور کو (نماز پڑھانے کا) حکم دیں (تو بہتر ہو گا)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ افاقہ ہوا تو فرمایا: بلال سے کہو کہ اذان دیں اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ راوی فرماتے ہیں چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے اذان دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ افاقہ محسوس ہوا تو فرمایا: کسی کو بلاؤ جو مجھے سہارا دے۔ چنانچہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آ گئیں اور ایک صاحب بھی حاضر ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کے سہارے سے (مسجد کی طرف) چلے۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو پیچھے ہٹنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے حتی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کر لی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ امام ابو عبداللہ (ابن ماجہ) رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ حدیث غریب ہے نصر بن علی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3787، ومصباح الزجاجة: 433) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1235
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" ادْعُوا لِي عَلِيًّا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟، قَالَ:" ادْعُوهُ"، قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ:" ادْعُوهُ"، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ؟، قَالَ:" نَعَمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ فَسَكَتَ"، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ، وَمَتَى لَا يَرَاكَ يَبْكِي، وَالنَّاسُ يَبْكُونَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ،" فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ، فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ"، قَالَ وَكِيعٌ: وَكَذَا السُّنَّةُ، قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی (رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ۱؎، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (تو بہتر ہو)، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۲؎۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1235]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں تھے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر کو بلا لیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا لو۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: عمر کو بلا لیں؟ فرمایا: بلا لو۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! عباس کو بلا لیں؟ فرمایا: ہاں۔ جب یہ حضرات جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھا کر دیکھا اور خاموش ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رقیق القلب اور کم گو ہیں، جب وہ آپ کو (امامت کے لیے) موجود نہ پائیں گے تو رو پڑیں گے، (اس پر) لوگ بھی (آپ کو یاد کر کے غم زدہ ہو جائیں گے اور) رونے لگیں گے۔ اگر آپ عمر کو نماز پڑھانے کا حکم دیں (تو بہتر ہوگا)۔ آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (گھر سے) باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افاقہ محسوس کیا تو دو مردوں کے سہارے (مسجد کی طرف) روانہ ہوئے۔ آپ کے قدم مبارک (شدتِ ضعف کی وجہ سے) زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے۔ صحابہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کو مسجد میں تشریف لاتے) دیکھا تو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہہ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو متنبہ کیا۔ وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ: اپنی جگہ ٹھہرے رہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے دائیں طرف بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے اور (دوسرے تمام) لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: یہی سنت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی بیماری کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5358، ومصباح الزجاجة: 434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 232، 343، 355، 356، 357) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے «علی» کے ذکر کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن دوسری حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: کیوں کہ بیماری کی وجہ سے آپ کو ہمارے بیٹھنے سے تکلیف ہو گی۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنی مرضی سے بلایا تھا، لیکن بیویوں کے اصرار سے اور لوگوں کو بھی بلا لیا تاکہ ان کا دل ناراض نہ ہو، اور چونکہ بہت سے لوگ جمع ہو گئے اس لئے آپ دل کی بات نہ کہنے پائے، اور سکوت فرمایا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور صحابہ پر ثابت ہوئی کہ آپ نے نماز کی امامت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، اور امامت صغری قرینہ ہے امامت کبری کا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جماعت میں شریک ہونا کیسا ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری اور کمزوری کے باوجود حجرہ سے باہر مسجد تشریف لائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون ذكر علي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (209/1)
والخبر مخالف لحديث البخاري (687)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں