سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّعْيِ
باب: موت کی خبر دینے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1476
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ، قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ:" يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ".
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے: کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1476]
بلال بن یحییٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے اقارب میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو وہ فرماتے: ”کسی کو اس کی اطلاع نہ کرنا، میں ڈرتا ہوں کہ یہ بھی «النَّعْيُ» ”اعلان“ میں شامل نہ ہو۔ میں نے اپنے دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «النَّعْيِ» ”موت کے اعلان“ سے منع کرتے سنا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 12 (986)، (تحفة الأشراف: 3303)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 406) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «نعی» : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس «نعی» کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ «نعی» ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مر جاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (986)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده ضعيف
ترمذي (986)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430