سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ
باب: جنازہ کے آگے چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1482
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (1179)، سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007)، سنن النسائی/الجنائز 56 (1946)، (تحفة الأشراف: 6820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 3 (8)، مسند احمد (2/8، 122) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جنازہ کے ساتھ جنازہ سے قریب ہو کر آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرح سے چلنا جائز ہے، البتہ پیچھے چلنا افضل ہے، اور سوار کے لئے آگے چلنا صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1483
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1483]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم جنازے کے آگے چلتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 26 (1010)، (تحفة الأشراف: 1562) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 1484
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ، لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1484]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے، جنازہ کسی کے پیچھے نہیں چلتا، جو اس سے آگے چلے وہ اس کے ساتھ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز50 (3184)، سنن الترمذی/الجنائز 27 (1011)، (تحفة الأشراف: 9637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 394، 415، 419، 432) (ضعیف)» (اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3184) ترمذي (1011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3184) ترمذي (1011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431