🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ
باب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ، وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ، يُرْفَعُونَ، وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1513]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہٴ احد کے دن شہداء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ ان میں سے دس دس افراد کا جنازہ ادا کرنے لگے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جہاں تھے وہیں رہے (ان کی میت سامنے رہی) دوسروں کی میتیں اٹھا لی جاتی تھیں اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت جیسے تھی، ویسے ہی (سامنے) پڑی رہتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6497، ومصباح الزجاجة: 540) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ:" أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر (قبلہ کی طرف) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1514]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے سے ڈھانپ دیتے تھے، پھر فرماتے: ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو لحد میں اسے آگے رکھتے اور فرمایا: میں ان کے حق میں گواہ ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون میں غلطاں ہی دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کا جنازہ پڑھا نہ انہیں غسل دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز72 (1343)، 73 (1245)، 75 (1347)، 78 (1353)، المغازي 126 (4079)، سنن ابی داود/ الجنائز 31 (3138، 3139)، سنن الترمذی/الجنائز46 (1036)، سنن النسائی/الجنائز62 (1957)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا: اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا اور حنظلہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا: فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا فِي ثِيَابِهِمْ بِدِمَائِهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1515]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہِ احد کے شہدا کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے لوہا (ہتھیار، مثلاً: زرہ، ڈھال وغیرہ) اور چمڑا (چمڑے کے ملبوسات) اتار دیے جائیں اور انہیں خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کر دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 31 (3134)، (تحفة الأشراف: 5570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء اخیر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 709)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3134)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنْزِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ، وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ".
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ احد کے شہیدوں کو شہادت کے مقامات پر واپس لے جانے کا حکم دیا جب کہ انہیں مدینہ لایا جا چکا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز42 (3165)، سنن الترمذی/الجہاد 37 (1717)، سنن النسائی/الجنائز 83 (2006)، (تحفة الأشراف: 3117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 297، 303، 308، 397)، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے روای نبیح لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اپنی شہادت کی جگہ سے کہیں اور منتقل نہ کئے جائیں، بلکہ جہاں وہ شہید ہوئے ہوں، وہیں ان کو دفن کر دیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں