🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ
باب: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1548]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہو کر بیٹھ گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 68 (3212)، السنة 27 (4753، 4754)، سنن النسائی/الجنائز81 (2003)، (تحفة الأشراف: 1758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/287، 295، 297) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يونس بن خباب ضعيف رافضي ضعفه الجمھور و الحديث الآتي (الأصل: 1549) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 434

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم ایک جنازے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے۔ ہم قبر تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی (بڑی خاموشی سے) بیٹھ گئے، گویا ہمارے سروں پر پرندے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1759) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی باکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں