سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ
باب: قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُهُ، تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ، وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين أنتم لنا فرط وإنا بكم لاحقون اللهم لا تحرمنا أجرهم ولا تفتنا بعدهم» ”اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (بستر پر) نظر نہ آئے۔ دیکھا تو آپ بقیع (قبرستان) میں تھے۔ (وہاں) آپ نے فرمایا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِكُمْ لَاحِقُونَ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ» ”اے مومن لوگوں کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، تم ہمارے پیش رو ہو اور ہم بھی تم سے آ ملنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان (پر صبر) کے ثواب سے محروم نہ رکھنا اور ان (کی وفات) کے بعد ہمیں آزمائش میں مبتلا نہ کرنا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1546]
قال الشيخ الألباني: ضعيف وهو صحيح دون اللهم لا ... م
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيداللّٰه: ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 1547) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيداللّٰه: ضعيف
والحديث الآتي (الأصل: 1547) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون نسأل الله لنا ولكم العافية» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاءاللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1547]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھایا کرتے تھے کہ وہ جب قبرستان میں جائیں (تو یہ دعا پڑھیں، چنانچہ) ان میں سے جو شخص (قبرستان میں جا کر) دعا کرتا، وہ یوں کہتا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ» ”تم پر سلامتی ہو، اے مومنوں اور مسلمانوں کی بستی والو! ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں۔ ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 35 (975)، سنن النسائی/الجنائز 103 (2042)، (تحفة الأشراف: 1930)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/353، 360) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولكم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر» یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے،تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم