🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: مَا جَاءَ فِي «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»
باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟"، قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟ ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کر لی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1656]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینے کا کتنا حصہ گزر گیا ہے؟ ہم نے کہا: بائیس (دن گزر گئے ہیں) اور باقی آٹھ دن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا ہوتا ہے اور مہینہ اتنا ہوتا ہے، اور مہینہ اتنا ہوتا ہے۔ آپ نے تین بار یہ الفاظ فرمائے اور (تیسری بار) ایک انگلی بند فرما لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12551، ومصباح الزجاجة: 601)، مسند احمد (2/251) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تین بار اشارہ فرمایا، اور تیسری بار میں ایک انگلی بند کرلی تو ۲۹ دن ہوئے، مطلب آپ کا یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کہا کہ ۲۲ دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے، یہ بات نہیں ہے، ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک ماہ کے لئے ایلا کیا تھا، پھر ۲۹ دن کے بعد ان کے پاس آ گئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مہینہ تک کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے لئے قسم کھائے تو ۲۹ دن قسم پر عمل کرنا کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 1657) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 439

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا، وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فِي الثَّالِثَةِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہے، تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1657]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار کے اشارے سے انتیس کا اشارہ مکمل کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 4 (1086)، سنن النسائی/الصیام 8 (2137، 2138)، (تحفة الأشراف: 3920)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/184) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے روزے رکھے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1658]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تیس روزوں کی نسبت انتیس روزے زیادہ دفعہ رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14622، ومصباح الزجاجة: 602) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2011)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن اياس الجريري اختلط
و لا يعرف سماع القاسم بن مالك منه قبل اختلاطه
و حديث أبي داود (الأصل: 2322 وسنده حسن) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں