🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ: مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ
باب: روزہ دار کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1677
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل الْمُؤَدِّبُ ، عَنِ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17630، ومصباح الزجاجة: 607) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: روزے دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہو جائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں «خلوف» کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1678
حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16906، ومصباح الزجاجة: 608) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن عبد الجبار الزبيدي: ضعيف،كا ن جرير يكذبه (تقريب: 2343)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 440

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں