🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ
باب: (زکاۃ میں) کھجور اور انگور کا اندازہ لگانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ".
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1819]
حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آدمی بھیجتے تھے تو وہ ان کے انگوروں اور پھلوں (کی مقدار) کا اندازہ لگاتا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الزکاة 13 (1603، 1604)، سنن الترمذی/الزکاة 17 (644)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2619)، (تحفة الأشراف: 9748) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سعید بن مسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
وضاحت: ۱؎: «خرص» کا مطلب تخمینہ اور اندازہ لگانے کے ہیں یعنی کھجور وغیرہ کے درخت پر پھلوں کا اندازہ کرنا کہ اس درخت میں اتنا پھل نکلے گا، اور اندازے کے بعد رعایا کو اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ پھل توڑ لیں، پھر اندازہ کے موافق ان سے دسواں یا بیسواں حصہ لے لیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (163،1604) ترمذي (644) نسائي (2619)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1820
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ، وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّهَبَ، وَالْفِضَّةَ"، وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ، وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذَا كَذَا، وَكَذَا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَحْزِرُ النَّخْلَ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، فَقَالُوا: قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ہمیں یہ دے دیجئیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ «خرص» کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1820]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو ان سے یہ طے کیا کہ زمین اور تمام سونا چاندی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ خیبر والوں نے کہا: ہم لوگ زمین (کی کاشت اور دیکھ بھال) سے زیادہ واقف ہیں تو یہ زمین ہمیں (کاشت کے لیے) اس شرط پر دے دیجئے کہ ہم اس میں (زراعت کا) کام کریں اور پھلوں کا نصف ہمارا ہو، نصف تمہارا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر وہ زمین دے دی۔ جب کھجوروں کے پھل اتارنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا۔ انہوں نے کھجوروں (کے پھل) کا اندازہ لگایا، مدینے والے اندازہ لگانے کو «الْخَرْصُ» کہتے تھے، اور فرمایا: اس باغ میں اتنا پھل ہے۔ انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ رضی اللہ عنہ! آپ نے (صحیح مقدار سے) زیادہ اندازہ لگایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: تب میں کھجوروں کا اندازہ لگا کر جو مقدار معین کرتا ہوں اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔ انہوں (یہودیوں) نے کہا: یہی حق ہے، اسی پر آسمان اور زمین قائم ہیں۔ اور کہا: ہم اتنا ہی لینے پر راضی ہیں جتنا آپ کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 35 (3410، 3411)، (تحفة الأشراف: 6494) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ یہودیوں نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو رشوت دینا اور اپنے سے ملانا چاہا کہ کھجور کا تخمینہ کمی کے ساتھ لگا دیں،لیکن وہ نہ مانے اور ٹھیک ٹھیک تخمینہ لگایا، اس وقت یہودیوں نے کہا: ایسے ہی لوگوں سے آسمان اور زمین قائم ہے، سبحان اللہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال تھا کہ غربت و افلاس اور پریشانی و مصیبت کی حالت میں بھی سچائی اور ایمان داری کو نہیں چھوڑتے تھے، جب ہی تو اسلام کو یہ ترقی حاصل ہوئی، اور آج اسلامی عقائد و اقدار اور تعلیمات کو چھوڑ کر مسلمان دنیا میں ذلیل وخوار ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں