سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ: حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَحْمَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ، وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَحْمَرَ، لَكَانَ نَوْلُهَا أَنْ تَفْعَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1852]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ کسی انسان کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اگر کوئی مرد عورت کو حکم دے کہ سرخ پہاڑ سے (پتھر اٹھا کر) سیاہ پہاڑ پر لے جائے، اور سیاہ پہاڑ سے سرخ پہاڑ پر لے جائے تو عورت کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ یہ کام کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16120، ومصباح الزجاجة: 656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 76، 97، 112، 135) (ضعیف)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، صرف حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، الإرواء: 1998، 7/58، صحیح أبی داود: 1877)
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الشطر الأول منه صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف
ولبعض حديثه شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان: ضعيف
ولبعض حديثه شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث نمبر: 1853
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ، سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟، قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ، وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا، وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ (سجدہ تحیہ) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے معاذ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1853]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ! یہ کیا؟“ انہوں نے کہا: ”میں شام گیا تو میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں۔ مجھے اپنے دل میں یہ بات اچھی لگی کہ ہم لوگ آپ کے ساتھ (تعظیم اور احترام کا) یہ طریقہ اختیار کریں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (یہ کام) نہ کرو۔ اگر میں کسی کو اللہ کے سوا کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی، اگر وہ اونٹ کے کجاوے پر بیٹھی ہوئی ہو اور خاوند اس سے خواہش کا اظہار کرے تو اسے انکار نہیں کرنا چاہیے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5180، ومصباح الزجاجة: 657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/3814) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ نیک اور دیندار عورت دنیاوی عیش و عشرت کا عنوان ہوتی ہے، اس کی صحبت سے آدمی کو خوشی ہوتی ہے، باہر سے کتنے ہی رنج میں آئے جب اپنی پاک سیرت عورت کے پاس بیٹھتا ہے تو سارا رنج و غم بھول جاتا ہے برخلاف اس کے اگر عورت خراب اور بدخلق ہو تو دنیا کی زندگی جہنم بن جاتی ہے، کتنا ہی مال اور دولت ہو سب بیکار اور لغو ہو جاتا ہے، کچھ مزا نہیں آتا، علی رضی اللہ عنہ نے «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً» (سورة البقرة: 201) سے دنیا کی نیکی سے نیک اور دیندار عورت اور آخرت کی نیکی سے جنت کی حور، اور آگ کے عذاب سے خراب اور بدزبان عورت مراد لی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1854
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1854]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش تھا تو وہ جنت میں جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرضاع 10 (1161)، (تحفة الأشراف: 18294) (ضعیف) (مساور الحمیری اور ان کی ماں دونوں مبہم راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن