سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ: الشَّرْطِ فِي النِّكَاحِ
باب: نکاح میں شرط کا بیان۔
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق شرط وہ ہے جس کے ذریعے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1954]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شرطیں پورا کیے جانے کا سب سے زیادہ حق رکھتی ہیں، جن کے ساتھ تم نے عورتوں کی عصمت (اپنے لیے) حلال کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشروط 6 (2721)، النکاح 53 (5151)، صحیح مسلم/النکاح 8 (1418)، سنن ابی داود/النکاح 40 (2139)، سنن الترمذی/النکاح 22 (1127)، سنن النسائی/النکاح 42 (3283)، (تحفة الأشراف: 9953)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/144، 150، 152)، سنن الدارمی/النکاح 21 (2249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شرط سے مراد وہ شرط ہے جس پر عورت سے نکاح کیا، اس حدیث کی روشنی میں مرد نکاح کے وقت جو شرطیں مقرر کرے ان کو پورا کرنا واجب ہے، گو وہ شرطیں کسی قسم کی ہوں، اور بعضوں نے کہا: مراد وہ شرطیں ہیں جو مہر کے متعلق ہوں، یا نکاح سے، اور جو دوسری شرطیں ہوں جیسے یہ کہ عورت کو اس کے گھر سے نہ نکالے گا، یا اس کے ملک سے نہ لے جائے گا، یا اس کے اوپر دوسرا نکاح نہ کرے گا، تو ایسی شرطوں کا پورا کرنا شوہر پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر اس نے ان شرطوں پر قسم کھائی ہو، اور ان کے خلاف کرے، تو قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كَانَ مِنْ صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ هِبَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، أَوْ حُبِيَ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ الرَّجُلُ بِهِ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہر یا عطیہ یا ہبہ میں سے جو نکاح ہونے سے پہلے ہو وہ عورت کا حق ہے، اور جو نکاح کے بعد ہو تو وہ اس کا حق ہے، جس کو دیا جائے یا عطا کیا جائے، اور مرد سب سے زیادہ جس چیز کی وجہ سے اپنے اعزاز و اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1955]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح سے قبل جو مہر، عطیہ یا ہبہ وغیرہ کی شرط ہو، وہ عورت کا حق ہے۔ اور جو نکاح ہو جانے کے بعد ہو، وہ اسی کا ہے جس کو دے دیا گیا۔ اور آدمی بہت حق رکھتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کی عزت افزائی کی جائے (اور اسے کوئی تحفہ دیا جائے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 36 (2129)، سنن النسائی/النکاح 67 (3355)، (تحفة الأشراف: 8745)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182) (ضعیف)» (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن