سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ: الشَّفَاعَةِ فِي التَّزْوِيجِ
باب: نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان۔
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَةِ، أَنْ يُشَفَّعَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ فِي النِّكَاحِ".
ابورہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر سفارش یہ ہے کہ مرد اور عورت کے نکاح کی سفارش کی جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1975]
حضرت ابورہم (احزاب بن اسید) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل سفارش یہ ہے کہ دو افراد کے مابین نکاح کے لیے سفارش کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12038، ومصباح الزجاجة: 699) (ضعیف)» (ابو رہم سمعی مخضرم اور ثقہ ہیں، اس لئے ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معاوية بن يحيي الصدفي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
إسناده ضعيف
معاوية بن يحيي الصدفي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذُرَيْحٍ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمِيطِي عَنْهُ الْأَذَى فَتَقَذَّرْتُهُ، فَجَعَلَ يَمُصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ، وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ان سے خون صاف کرو“، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1976]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو گھر کی چوکھٹ سے ٹھوکر لگی، ان کے چہرے پر زخم آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا خون صاف کر دو۔“ مجھے اس سے کراہت محسوس ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے چہرے سے خون پونچھنے اور صاف کرنے لگے، پھر فرمایا: ”اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیور پہناتا اور کپڑے پہناتا، پھر اس کی شادی کر دیتا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16296، ومصباح الزجاجة: 700)، وقد أخرجہ: 6/139، 222) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو زیور اور لباس سے آراستہ کرنا جائز ہے بلکہ نکاح کے وقت مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
وتابعه مجالد وھو ضعيف
وفي سماع البهي من عائشة رضي اﷲ عنها كلام وللحديث شاهد مرسل عند ابن سعد (62/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449
إسناده ضعيف
شريك عنعن
وتابعه مجالد وھو ضعيف
وفي سماع البهي من عائشة رضي اﷲ عنها كلام وللحديث شاهد مرسل عند ابن سعد (62/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 449