🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

56. بَابُ: الْغَيْرَةِ
باب: غیرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1996
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ، فَأَمَّا مَا يُحِبُّ، فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1996]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک غیرت اللہ کو پسند ہے اور ایک غیرت اللہ کو ناپسند ہے۔ جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ خرابی کے آثار معلوم ہونے پر غیرت ہے اور جو غیرت اللہ کو ناپسند ہے، وہ خرابی کے آثار کے بغیر (خواہ مخواہ) غیرت کرنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15438، ومصباح الزجاجة: 709) (صحیح) (اس کی سند میں أبی سھم مجہول ہے لیکن یہ حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: ابوداود: 2659 و نسائی و احمد: 5 /445 - 446 و الإرواء: 1999)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ وقت ایسا ہے کہ اللہ کی پناہ، بدمعاش لوگ کسی نیک بخت عورت کی نسبت ایک جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں تاکہ اس کا شوہر غیرت میں آ کر کوئی کام کر بیٹھے، اس کا گھر تباہ و برباد ہو، حسد کرنے والوں کو اس میں خوشی ہوتی ہے، یہ وقت بڑے تحمل اور استقلال کا ہے، انسان کو اس میں سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے، جلدی ہرگز نہ کرنی چاہئے، اور شریعت کے مطابق گواہی لینی چاہئے، اگر ایسے سچے اور نیک گواہوں کی گواہی نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ حاسدوں اور دشمنوں کا فریب ہے، جو اس کا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے، اللہ پاک حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایذادہی سے نہ چھوڑا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت باندھی، طوفان اٹھایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت ان کے سامنے نازل کی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1997
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ، أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ"، قَالَهُ ابْن مَاجَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1997]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے کسی عورت پر اس طرح رشک محسوس نہیں ہوا جس قدر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے رشک محسوس ہوا کیونکہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رب نے حکم دیا تھا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتی کے محل کی خوش خبری دیں۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے مراد سونے کا محل ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 17096)، وقد أخر جہ: صحیح البخاری/المناقب 20 (3816)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2434)، سنن الترمذی/البروالصلة 70 (2017)، المناقب 62 (3875) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نہ اس میں غل ہے نہ شور، جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی بیوی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے انہی کے مبارک بطن سے ہوئی، اور انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نثار کیا، اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں، ان کے فضائل بہت ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری بیویوں میں سب سے افضل ہیں، اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1998
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي، أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا، أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1998]
حضرت مسور بن مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا جبکہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں۔ میں انہیں اجازت نہیں دیتا، پھر (کہتا ہوں کہ) میں انہیں اجازت نہیں دیتا، پھر (کہتا ہوں کہ) میں انہیں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہ پسند کریں کہ میری بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کو طلاق دے کر ان کی لڑکی سے شادی کر لیں (تو ان کی مرضی ہے)۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا تو میرا ٹکڑا (میرے جسم و جان کا ایک حصہ) ہے، جس بات سے اسے پریشانی ہوتی ہے اس سے مجھے بھی پریشانی ہوتی ہے اور جس بات سے اسے دکھ پہنچتا ہے، اس سے مجھے بھی دکھ پہنچتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فرض الخمس 5 (3111)، المناقب 12 (3714)، النکاح 109 (5230)، الطلاق 13 (5278) صحیح مسلم/فضائل الصحابة 17 (2449)، سنن ابی داود/النکاح 13 (2071)، سنن الترمذی/المناقب 61 (3867)، (تحفة الأشراف: 11267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/323، 328) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے موجود ہوتے ہوئے،ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد ابوجہل کی بیٹی سے اور دوسری کئی عورتوں سے شادی کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ، أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ، فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا، اب علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور کہتے ہیں: یہ خبر سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) کھڑے ہوئے، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: امابعد، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو، قسم اللہ کی، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آ گئے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1999]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کا رشتہ طلب کیا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: لوگ باتیں کرتے ہیں کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کے متعلق کسی بات پر غصہ نہیں آتا۔ یہ (دیکھیے) علی (رضی اللہ عنہ) ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، میں نے سنا کہ آپ نے تشہد پڑھا (خطبہ کے افتتاحی کلمات ارشاد فرمائے) پھر فرمایا: «أَمَّا بَعْدُ» ! میں نے ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو رشتہ دیا۔ انہوں نے مجھ سے (جو بھی) بات کی، سچی بات کی۔ اور بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میرا ٹکڑا (اور میری لخت جگر) ہے۔ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تم اسے آزمائش میں ڈالو۔ قسم ہے اللہ کی! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی ایک آدمی کے پاس (اس کے نکاح میں) جمع نہیں ہوں گی۔ راوی نے بیان کیا: چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس رشتے سے دست بردار ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11278) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کفر کے باوجود انہوں نے زینب رضی اللہ عنہا کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا پھر بھیج دیا۔
۲؎: یعنی علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور شادی کیوں کرتے آپ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار اور آپ کی مرضی کے تابع تھے، اس واقعہ کی وجہ سے علی رضی اللہ عنہ پر کوئی طعن نہیں ہو سکتا جیسے خوارج کیا کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے لاعلمی میں یہ خیال کر کے کہ ہر مرد کو چار شادی کا حق ہے، یہ پیغام دیا تھا، جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف ہے تو فوراً اس سے رک گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں