🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. بَابٌ في الْمَرْأَةِ تُؤْذِي زَوْجَهَا
باب: شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الْآخَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلَا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2013]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے۔ اس نے ایک کو (گود میں) اٹھایا ہوا تھا اور ایک کو ہاتھ سے پکڑ کر لیے آ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر) فرمایا: (یہ عورتیں بچوں کو) اٹھانے والی، جننے والی اور رحم کرنے والی ہوتی ہیں، اگر ان کا اپنے خاوندوں سے نامناسب سلوک نہ ہو تو ان میں سے جو نماز کی پابند ہیں، وہ جنت میں داخل ہو جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4865، ومصباح الزجاجة: 714)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 257، 268) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں انقطاع ہے کیونکہ سالم بن ابی جعد کا سماع أبی امامہ سے ثابت نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال سالم: ’’ ذكر لي عن أبي أمامة ‘‘ (مسند أحمد 252/5)
فالسند ضعيف لجھالة الواسطة بينھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2014
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا، إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ: مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2014]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کو ایذا دیتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: «قَاتَلَكِ اللّٰهُ» اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الرضاع 19 (1174)، (تحفة الأشراف: 11356)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/242) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: سچ ہے دنیا کی قرابت اور رشتہ داری سب چند روزہ ہے، حقیقت میں ہماری بیوی وہی ہے جو اللہ تعالی نے جنت میں ہمارے لئے رکھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں