سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ: اللِّعَانِ
باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2066
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَقَتَلَهُ، أَيُقْتَلُ بِهِ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ ثُمَّ لَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ، فَقَالَ: صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَابَ الْمَسَائِلَ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَئِنْ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی (رضی اللہ عنہ) عاصم بن عدی (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو (زنا) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم (رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎، پھر عویمر (رضی اللہ عنہ) عاصم (رضی اللہ عنہ) سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا، کالی آنکھوں والا، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ (سرخ کیڑا ہوتا ہے) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2066]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ، حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات پوچھ کر بتائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو (گناہ میں ملوث) دیکھے اور (غصے میں آکر) اسے قتل کر دے تو کیا اسے (قصاص میں) قتل کیا جائے گا؟ ورنہ وہ کیا کرے؟“ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ (مسئلہ) دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس قسم کے) سوالات کو ناپسند فرمایا۔ بعد میں حضرت عویمر رضی اللہ عنہ، حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے تو ان سے دریافت کیا اور کہا: ”تم نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: ”ہوا یہ ہے کہ تجھ سے مجھے بھلائی نہیں پہنچی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (مسئلہ) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوالات کو ناپسند فرمایا۔“ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بات پوچھوں گا“، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے بارے میں وحی نازل ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) میں لعان کرا دیا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر اب میں اس عورت کو (گھر) لے جاؤں تو (اس کا مطلب ہے کہ) میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے“، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس عورت کو طلاق دے دی، پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ جاری ہو گیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! اگر اس عورت کے ہاں سیاہ فام، سیاہ آنکھوں والا، بڑے سرینوں والا بچہ پیدا ہوا تو میرے خیال میں اس (حضرت عویمر رضی اللہ عنہ) نے یقیناً سچ کہا ہے۔ اور اگر اس کے ہاں بیر بوٹی جیسا سرخ بچہ پیدا ہوا تو میرے خیال میں اس (حضرت عویمر رضی اللہ عنہ) نے ضرور جھوٹ بولا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اس عورت کے ہاں بری صورت والا بچہ پیدا ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 44 (423)، تفسیرسورة النور 1 (4745)، 2 (4746)، الطلاق 4 (5359)، 29 (5308)، 30 (5309)، الحدود 43 (6854)، الأحکام 18 (7165)، الاعتصام 5 (7304)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1492)، سنن ابی داود/الطلاق 27 (2245)، سنن النسائی/الطلاق 35 (3496)، (تحفة الأشراف: 4805)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13 (34)، مسند احمد (5/330، 334، 336، 337)، سنن الدارمی/النکاح 39 (2275) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ بلا ضرورت سوال کرنے سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے، اور شاید اس وقت تک آپ کو یہ معلوم نہ ہوا ہو کہ ایسا واقعہ کہیں پیش آیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2067
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ"، فَقَالَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي، قَالَ: فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 ـ 9 فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، فَجَاءَا فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ، أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ" فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، قَالُوا لَهَا: إِنَّهَا الَمُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ" فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ (بدکاری کا) الزام لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے...“ یہاں تک کہ اخیر آیت: «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» (سورة النور: ۶-۹) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا“، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا: یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا، بھری سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے“، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2067]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بیوی پر شریک بن سحماء (رضی اللہ عنہ) سے ملوث ہونے کا الزام لگایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ پیش کر، ورنہ تمہاری پیٹھ پر (قذف کی) حد لگے گی۔“ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ضرور (وحی) نازل فرما دے گا جس سے میری پیٹھ (حد لگنے سے) بچ جائے گی۔“ تو راوی فرماتے ہیں کہ تب یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ... وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة النور: 6 - 9] ”اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک کی شہادت اس طرح ہو گی کہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ بے شک وہ سچوں میں سے ہے۔ اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور عورت سے تب سزا ٹلتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ بلاشبہ وہ (اس کا خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ اگر وہ (اس کا خاوند) سچوں میں سے ہو تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ آ گئے تو ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر گواہی دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا دونوں میں سے کوئی ایک توبہ کرتا ہے؟“ پھر خاتون کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی (اور قسمیں کھائیں) جب وہ پانچویں (گواہی) کے وقت یہ کہنے لگی کہ اگر وہ جھوٹی ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو، تو حاضرین نے اسے کہا: ”یہ قسم (اللہ کے غضب کو) واجب کر دینے والی ہے۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”(یہ سن کر) اس نے توقف کیا اور پیچھے ہٹی حتیٰ کہ یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ (بے گناہ ہونے کے دعوے سے) رجوع کر لے گی، پھر اس نے کہا: قسم ہے اللہ کی! میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے بدنام نہیں کروں گی۔ (اور پانچویں قسم بھی کھا لی۔)“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (کے ہاں ولادت ہونے) کا انتظار کرو، اگر اس نے سرمگیں آنکھوں والا، بڑے سرینوں والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہو گا۔“ (وقت آنے پر) اس کے ہاں ایسا ہی بچہ پیدا ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میرا اس عورت سے (دوسرا) معاملہ ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ تفسیر سورة النور 2 (4746)، الطلاق 29 (5308)، سنن ابی داود/الطلاق 27 (2254)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النور 25 (3179) (تحفة الأشراف: 6225)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 273) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لیکن اللہ تعالی کا حکم یہ اترا کہ لعان کرنے والوں پر حد قذف قائم نہ کی جائے، لہذا میں اس عورت پر حد نہیں جاری کرتا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حاکم کو رائے اور قیاس اور گمان پر عمل نہیں کرنا چاہئے، بلکہ جو فیصلہ گواہی اور دلیل سے ثابت ہو وہی دینا چاہئے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قیافہ شرعی حجت نہیں ہے، اور قیافہ کے سبب سے کسی کو حد نہیں پڑ سکتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2068
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَاللَّهِ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَلَاعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ:" عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، پھر اس کو مار ڈالے، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا: ”میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو“ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2068]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جمعے کی رات ہم لوگ مسجد میں تھے کہ ایک آدمی نے کہا: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو (گناہ کی حالت میں) دیکھ کر قتل کر دے تو تم لوگ اسے (قصاص کے طور پر) قتل کر دو گے۔ اگر وہ (اپنی بیوی کے مجرم ہونے کی) بات کرے تو تم اسے (الزام تراشی کے طور پر) کوڑے لگاؤ گے۔ قسم ہے اللہ کی! میں یہ بات ضرور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کروں گا۔ آخر کار اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیات نازل فرما دیں۔ اس کے بعد اس آدمی نے اپنی بیوی پر الزام لگایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان لعان کروا دیا اور فرمایا: ”شاید اس عورت کے ہاں سیاہ فام بچہ پیدا ہو۔“ چنانچہ سیاہ فام اور گھنگھریالے بالوں والا بچہ ہی پیدا ہوا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 10 (1495)، سنن ابی داود/الطلاق 27 (2253)، (تحفة الأشراف: 9425)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/421، 448) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دیدیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2069]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”ایک مرد نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بیٹے کو اپنا ماننے سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی اور بچے کو عورت کے ساتھ کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 32 (5311)، 35 (5315)، 52 (5350)، الفرائض 17 (6748)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1494)، سنن ابی داود/الطلاق 27 (2259)، سنن الترمذی/الطلاق 22 (1203)، سنن النسائی/الطلاق 45 (3507)، (تحفة الأشراف: 8322)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق 13 (35)، مسند احمد (2/ 12، 38، 64، 71)، سنن الدارمی/االنکاح 39 (2278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بچہ ماں کے حوالے کر دیا، اور اس کا نسب بھی ماں سے متعلق کر دیا، اب وہ اپنی ماں کا وارث ہو گا لیکن اس کے مرد کا وارث نہ ہو گا جس نے یہ کہہ دیا کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، قَالَ: ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعِجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ،" فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا، وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی، اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا: میں نے اسے کنواری نہیں پایا، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا: میں تو کنواری تھی، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2070]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے قبیلہ بنو عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، چنانچہ اس نے اس سے صحبت کی اور رات بھر اس کے پاس رہا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے کہا: ”میں نے اسے باکرہ (کنواری) نہیں پایا۔“ اس کا مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لڑکی کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے کہا: ”میں تو باکرہ تھی“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں لعان کروایا اور لڑکی کو حق مہر دلوایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2070]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5526، ومصباح الزجاجة: 729)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/261) (ضعیف)» (محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت «قال» کہہ کر کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق لم يصرح بالسماع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
إسناده ضعيف
ابن إسحاق لم يصرح بالسماع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لَا مُلَاعَنَةَ بَيْنَهُنَّ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2071]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار عورتوں سے لعان نہیں کیا جاتا: مسلمان مرد کی عیسائی بیوی، مسلمان مرد کی یہودی بیوی، غلام خاوند کی آزاد بیوی اور آزاد خاوند کی وہ بیوی جو (کسی اور کی) لونڈی ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8763، ومصباح الزجاجة: 730) (ضعیف)» (سند میں عثمان بن عطاء ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: لیکن تیسری صورت میں غلام کو حد قذف پڑے گی اور باقی صورتوں میں نہ لعان ہے نہ شوہر کو حد پڑے گی، غرض یہ ہے کہ لعان مومنہ اور آزاد عورت کی تہمت سے لازم آتا ہے، اگر عورت کافرہ ہو، یا لونڈی ہو، یا اس کو حد پڑ چکی ہو تو لعان نہ ہو گا۔ (شرح وقایہ)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عثمان بن عطاء الخراساني ضعيف الحديث جدًا
وله متابعة مردودة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453
إسناده ضعيف جدًا
عثمان بن عطاء الخراساني ضعيف الحديث جدًا
وله متابعة مردودة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 453