سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: مَنْ قَالَ كَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا
باب: بری قسم کا کفارہ اسے چھوڑ دینا ہے۔
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی، یا کسی ناجائز کام کی قسم کھائی تو اس قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1789، ومصباح الزجاجة: 740) (صحیح)» (سند میں حارثہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مشکل الآثار 1/287، میں قوی شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2334)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثة بن أبي الرجال ضعيف
وروي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 287) بإسناد حسن عن ابن عباس عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((من حلف بيمين علي قطيعة الرحم أو معصية فحنث فذلك كفارة له))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
إسناده ضعيف
حارثة بن أبي الرجال ضعيف
وروي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 287) بإسناد حسن عن ابن عباس عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((من حلف بيمين علي قطيعة الرحم أو معصية فحنث فذلك كفارة له))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
حدیث نمبر: 2111
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَتْرُكْهَا، فَإِنَّ تَرْكَهَا كَفَّارَتُهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2111]
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی قسم کھائی، پھر دوسری بات اس سے بہتر معلوم ہوئی تو اس (قسم والے غلط کام) کو چھوڑ دے، اسے چھوڑنا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8762، ومصباح الزجاجة: 741)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأیمان والنذور 15 (3274)، سنن النسائی/الأیمان 16 (3823)، مسند احمد (2/212) (منکر)» (سند میں عون بن عمارہ منکر الحدیث راوی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: 7/ 168، سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1365)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن