علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : من قال كفارتها تركها
باب: بری قسم کا کفارہ اسے چھوڑ دینا ہے۔
حدیث نمبر: 2110
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ، أَوْ فِيمَا لَا يَصْلُحُ فَبِرُّهُ أَنْ لَا يُتِمَّ عَلَى ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قطع رحمی کی قسم کھائی، یا کسی ناجائز کام کی قسم کھائی تو اس قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے چھوڑ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1789، ومصباح الزجاجة: 740) (صحیح)» (سند میں حارثہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مشکل الآثار 1/287، میں قوی شاہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2334)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حارثة بن أبي الرجال ضعيف
وروي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 287) بإسناد حسن عن ابن عباس عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((من حلف بيمين علي قطيعة الرحم أو معصية فحنث فذلك كفارة له))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
إسناده ضعيف
حارثة بن أبي الرجال ضعيف
وروي الطحاوي في مشكل الآثار (1/ 287) بإسناد حسن عن ابن عباس عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((من حلف بيمين علي قطيعة الرحم أو معصية فحنث فذلك كفارة له))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2110
| من حلف في قطيعة رحم أو فيما لا يصلح فبره أن لا يتم على ذلك |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2110 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2110
اردو حاشہ:
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 2334)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کفارہ نہ دے سکے تو کم از کم اس گناہ سے پرہیز تو کرے جس کے کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔
گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے۔
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحیحة، رقم: 2334)
اس کا مطلب یہ ہے کہ کفارہ نہ دے سکے تو کم از کم اس گناہ سے پرہیز تو کرے جس کے کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔
گناہ سے بچنا بھی نیکی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2110]
Sunan Ibn Majah Hadith 2110 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق