🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ: مَنْ وَرَّى فِي يَمِينِهِ
باب: جو کوئی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا، فَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي، فَقَالَ:" صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2119]
حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت وائل رضی اللہ عنہ کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا۔ میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرے بھائی ہیں (یہ ظاہر کیا کہ یہ وائل بن حجر نہیں۔) اس نے انہیں چھوڑ دیا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (واقعہ) عرض کیا کہ دوسرے افراد نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا اور میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، «اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ» مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 8 (3256)، (تحفة الأشراف: 4809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قصہ کے تذکرہ کے ساتھ یہ ضعیف ہے لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 4 (1653)، سنن ابی داود/الأیمان 7 (3255)، سنن الترمذی/الأحکام 1 (1354)، (تحفة الأشراف: 12826)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النذور 11 (2394) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہو گا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہو گا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہو گی۔ امام احمد رحمہ اللہ کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری قسم اس مفہوم پر واقع ہوگی جس پر تیرا ساتھی (قسم دلانے والا) تجھے سچا سمجھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏أنظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث بھی اس مقام پر محمول ہے کہ معاملات میں آدمی قسم کھائے تو قسم دینے والے کے مطلب پر ہو گی، جیسے اگلی حدیث ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں