🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. بَابُ: عُهْدَةِ الرَّقِيقِ
باب: غلام کو واپس لینے کی ذمے داری کی مدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے والے پر غلام یا لونڈی کو واپس لینے کی ذمہ داری تین دن تک ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 4608، ومصباح الزجاجة: 790) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حسن بصری نے یہ حدیث سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی ہے، کیونکہ حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی دوسری حدیث کا سماع ان سے صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قتادة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف،انظر الحديث الآتي (2245)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار دن کے بعد بیچنے والا ذمہ دار نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 72 (3506)، (تحفة الأشراف: 9917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150، 152)، سنن الدارمی/البیوع 18 (2594) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ہشیم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3506،3507)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں