صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ كَيْفَ الإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ:
باب: میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چاہیے۔
حدیث نمبر: Q1261
وَقَالَ الْحَسَنُ: الْخِرْقَةُ الْخَامِسَةُ تَشُدُّ بِهَا الْفَخِذَيْنِ وَالْوَرِكَيْنِ تَحْتَ الدِّرْعِ.
اور حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عورت کے لیے ایک پانچواں کپڑا چاہیے جس سے قمیص کے تلے رانیں اور سرین باندھی جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1261]
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَهُ , قَال: سَمِعْتُ ابْنَ سِيرِينَ , يَقُولُ: جَاءَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مِنَ اللَّاتِي بَايَعْنَ قَدِمَتِ الْبَصْرَةَ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ، فَحَدَّثَتْنَا , قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ: اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا , أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي , قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ"، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْإِشْعَارَ الْفُفْنَهَا فِيهِ، وَكَذَلِكَ كَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَأْمُرُ بِالْمَرْأَةِ أَنْ تُشْعَرَ وَلَا تُؤْزَرَ.
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ایوب نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں (تو اطلاع دی) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں (یہ ایوب نے کہا) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1261]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا انصار کی ان عورتوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت بھی کی تھی۔ وہ اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے بصرہ آئیں، لیکن اسے وہاں نہ پایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تین بار یا پانچ بار یا اگر ضرورت ہو تو اس سے زیادہ بار پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور آخری بار اس میں کافور ملاؤ۔ اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرو۔“ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ہم فارغ ہو گئیں تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: ”اسے اس میں لپیٹ دو۔“ اور اس سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں وہ آپ کی کون سی صاحبزادی تھیں۔ راوی نے کہا: اشعار یہ ہے کہ اسے چادر میں لپیٹ دو۔ اسی طرح ابن سیرین رحمہ اللہ عورت کے متعلق حکم دیتے تھے کہ اسے کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اسے تہبند نہ باندھا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة