🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ: الْحُكْمِ فِيمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي بِاللَّيْلِ
باب: مویشیوں نے اگر کسی کے کھیت اور باغ کو نقصان پہنچا دیا ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ" أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ كَانَتْ ضَارِيَةً دَخَلَتْ فِي حَائِطِ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ".
ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2332]
حضرت حرام بن سعد بن محیصہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت براء بن عازب بن حارث رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی لوگوں کے کھیت چر جایا کرتی تھی۔ وہ کچھ لوگوں کے باغ میں جا گھسی اور اسے خراب کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واقعہ عرض کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ مال (باغ وغیرہ) کی حفاظت دن کے وقت (باغ کے) مالکوں کی ذمہ داری ہے اور رات کو جانور جو کچھ خراب کریں اس کی تلافی جانوروں کے مالکوں کے ذمہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 92 (3570)، (تحفة الأشراف: 1753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاقضیة 28 ((37)، مسند احمد (4/295، 5/436) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ رات کو جانور والوں کو چاہئے کہ اپنے جانور باندھ کر رکھیں، جب انہوں نے چھوڑ دیا اور کسی کا نقصان کیا تو نقصان ان کو بھرنا پڑے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3570)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2332M
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ نَاقَةً لِآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2332M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرماقبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح