🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الشَّهَادَةِ لِمَنْ لَمْ يُسْتَشْهَدْ
باب: بغیر طلب کئے خود سے گواہی دینے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے زمانہ والے، پھر جو لوگ ان سے نزدیک ہوں، پھر وہ جو ان سے نزدیک ہوں، پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے اور قسم گواہی سے سبقت کر جائے گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2362]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون لوگ بہتر ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے زمانے کے (مومن) افراد، پھر جو ان سے متصل ہوں گے، پھر جو ان سے متصل ہوں گے، پھر ایسے لوگ آ جائیں گے جن کی گواہی ان کی قسم سے پہلے اور ان کی قسم ان کی گواہی سے پہلے آئے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 9 (2652)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 52 (2533)، سنن الترمذی/المناقب 57 (3859)، (تحفة الأشراف: 9403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 378، 417، 434، 438، 442) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت ا س کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا مِثْلَ مُقَامِي فِيكُمْ فَقَالَ:" احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ وَمَا يُسْتَشْهَدُ وَيَحْلِفَ وَمَا يُسْتَحْلَفُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ کھڑے ہوئے جیسے میں تمہارے بیچ کھڑا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کی شان کے سلسلے میں میرا خیال رکھو پھر ان لوگوں کی شان کے سلسلے میں جو ان کے بعد ہوں، پھر جو ان کے بعد ہوں، پھر جھوٹ عام ہو جائے گا یہاں تک کہ ایک شخص گواہی دے گا اور کوئی اس سے گواہی نہ چاہے گا، اور قسم کھائے گا اور کوئی اس سے قسم نہ چاہے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2363]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقامِ جابیہ میں ہم سے خطاب فرمایا، آپ نے اس میں فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اسی طرح کھڑے ہوئے تھے جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں میرا لحاظ رکھنا، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان (صحابہ) سے متصل ہوں گے (یعنی تابعین)، پھر ان لوگوں کے بارے میں جو ان (تابعین) سے متصل ہوں گے (یعنی تبع تابعین)، اس کے بعد جھوٹ عام ہو جائے گا حتی کہ آدمی گواہی دے گا، حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی اور وہ قسم کھائے گا، حالانکہ اس سے قسم نہیں لی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10418، ومصباح الزجاجة: 828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/26) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الملک بن عمیر مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، الصحیحة: 431، 1116)
وضاحت: ۱؎: مقام جابیہ شام کی ایک بستی کا نام ہے۔ میرا خیال رکھو یعنی کم از کم میری رعایت کرتے ہوئے انہیں کوئی ایذا نہ پہنچاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں