🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ: عَطِيَّةِ الْمَرْأَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی ہبہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2388
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ فِي مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا إِذَا هُوَ مَلَكَ عِصْمَتَهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت (ناموس) کا مالک ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2388]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف جائز نہیں، جب کہ وہ اس کی عصمت کا مالک ہو (جب تک نکاح قائم ہو۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8779)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 86 (3546)، سنن النسائی/الزکاة 58 (2541)، العمریٰ (3787)، مسند احمد (2/221) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2389
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ جَدَّتَهُ خَيْرَةَ امْرَأَةَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا فَهَلِ اسْتَأْذَنْتِ كَعْبًا". قَالَتْ: نَعَمْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ زَوْجِهَا فَقَالَ:" هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَتَصَدَّقَ بِحُلِيِّهَا"، فَقَال: نَعَمْ، فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ خیرۃ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا زیور لے کر آئیں، اور عرض کیا: میں نے اسے صدقہ کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں، کیا تم نے کعب سے اجازت لے لی ہے؟ وہ بولیں: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیج کر پچھوایا، کیا تم نے خیرہ کو اپنا زیور صدقہ کرنے کی اجازت دی ہے، وہ بولے: جی ہاں، تب جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا صدقہ قبول کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2389]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک صاحب حضرت عبداللہ بن یحییٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی دادی، یعنی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت خیرہ رضی اللہ عنہا اپنا زیور لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میں یہ صدقہ کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف کرنا درست نہیں۔ کیا تم نے کعب سے اجازت لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خاوند حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیج کر دریافت فرمایا: کیا تم نے خیرہ کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنا زیور صدقہ کر دے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صدقہ وصول فرما لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15831، ومصباح الزجاجة: 837) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد اللہ بن یحییٰ مجہول ہیں، لیکن دوسرے شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 775)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن يحيي وأبوه: مجھولان (تقريب:3701،7681)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں