سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: مَنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا
باب: صدقہ کئے ہوئے مال کے وارث ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2394
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ:" آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہو گیا (اب لونڈی کا حکم کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تجھے (تیرے صدقہ کا) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2394]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی صدقہ کے طور پر دی تھی۔ اب والدہ فوت ہو گئی ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے اجر دے دیا اور وہ (لونڈی) وراثت کے طور پر تیرے پاس واپس آ گئی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1759)، (تحفة الأشراف: 1980) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ترکہ (وراثت) میں تمہارے پاس لونڈی آ گئی، معلوم ہوا کہ صدقہ کی ہوئی چیز اگر میراث میں آ جائے تو اس کا لینا منع نہیں ہے، البتہ اس کو خریدنا منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً لِي وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتْرُكْ وَارِثًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَجَبَتْ صَدَقَتُكَ وَرَجَعَتْ إِلَيْكَ حَدِيقَتُكَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک باغ دیا تھا، اور وہ مر گئیں، اور میرے سوا ان کا کوئی اور وارث نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں تمہارے صدقہ کا ثواب مل گیا، اور تمہارا باغ بھی تمہیں واپس مل گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2395]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”میں نے اپنی والدہ کو اپنا ایک باغ دے دیا تھا۔ (اب) وہ فوت ہو گئی ہیں، اور میرے علاوہ کوئی وارث چھوڑ کر نہیں گئیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا صدقہ درست ہو گیا، اور تیرا باغ تیری ملکیت میں واپس آگیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2395]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8744، ومصباح الزجاجة: 839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/185) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح