🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ الْكَفَنِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ:
باب: کفن کی تیاری میت کے سارے مال میں سے کرنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1274
وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ وَالزُّهْرِيُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَقَتَادَةُ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْحَنُوطُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ ثُمَّ بِالدَّيْنِ ثُمَّ بِالْوَصِيَّةِ وَقَالَ سُفْيَانُ أَجْرُ الْقَبْرِ , وَالْغَسْلِ هُوَ مِنَ الْكَفَنِ.
‏‏‏‏ اور عطاء اور زہری اور عمرو بن دینار اور قتادہ رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے۔ اور عمرو بن دینار نے کہا خوشبودار کا خرچ بھی سارے مال سے کیا جائے۔ اور ابراہیم نخعی نے کہا پہلے مال میں سے کفن کی تیاری کریں ‘ پھر قرض ادا کریں۔ پھر وصیت پوری کریں اور سفیان ثوری نے کہا قبر اور غسال کی اجرت بھی کفن میں داخل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1274]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ , فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي".
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (غزوہ احد میں) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی۔ اسی طرح جب حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1274]
ابراہیم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دن کھانا لایا گیا تو فرمانے لگے کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے ترکے سے ایک چادر کے سوا کفن نہ مل سکا۔ اسی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ یا کوئی اور شخص جو مجھ سے بہتر تھا شہید کیا گیا تو ان کے لیے بھی ایک چادر کے علاوہ کفن میسر نہ آ سکا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا ہماری آخرت کی پاکیزہ چیزیں اس دنیوی زندگی ہی میں ہمیں دے دی جائیں، اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں