سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: إِقَامَةِ الْحُدُودِ
باب: حدود کے نفاذ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2537
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2537]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی مقرر کردہ حدوں میں سے ایک حد جاری کرنا اللہ عزوجل کی زمین میں چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7381، ومصباح الزجاجة: 899) (حسن)» (سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 331)
وضاحت: ۱؎: جیسے بارش سے خوشحالی آ جاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سعيد بن سنان الحنفي الحمصي: ’’ متروك رماه الدار قطني وغيره بالوضع ‘‘ (تقريب: 2333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
إسناده ضعيف جدًا
سعيد بن سنان الحنفي الحمصي: ’’ متروك رماه الدار قطني وغيره بالوضع ‘‘ (تقريب: 2333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
حدیث نمبر: 2538
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: أَظُنُّهُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَدٌّ يُعْمَلُ بِهِ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا أَرْبَعِينَ صَبَاحًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایک حد جو دنیا میں نافذ ہو، اہل زمین کے لیے یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ چالیس دن تک بارش ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2538]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین میں ایک (مجرم کو) حد لگانا زمین والوں کے لیے چالیس دن بارش برسنے سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 7 (4919، 4920 موقوفاً)، (تحفة الأشراف: 14888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/362، 402) (حسن)» (سند میں جریر بن یزید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4908،4909)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
إسناده ضعيف
نسائي (4908،4909)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
حدیث نمبر: 2539
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَحَدَ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَدْ حَلَّ ضَرْبُ عُنُقِهِ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَلَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يُصِيبَ حَدًّا، فَيُقَامَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2539]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کی ایک بھی آیت کا انکار کیا تو اسے قتل کرنا حلال ہو گیا، اور جس نے کہا کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو (اس اقرار کے بعد) کسی کو اس پر (قتل کرنے یا مال چھیننے کا) اختیار نہیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی حد والے جرم کا ارتکاب کرے تو وہ حد اس پر جاری کی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6042، ومصباح الزجاجة: 900) (ضعیف)» (سند میں حفص بن عمر ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1416)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن عمر العدني: ضعيف (تقريب: 1420)
والسند ضعفه البوصيري من أجله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
إسناده ضعيف
حفص بن عمر العدني: ضعيف (تقريب: 1420)
والسند ضعفه البوصيري من أجله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
حدیث نمبر: 2540
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ الْمَفْلُوجُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرو، خواہ کوئی قریبی ہو یا دور کا، اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2540]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی حدود قریب والے پر بھی نافذ کرو اور دور والے پر بھی، اور تمہیں اللہ (کے احکام کی تعمیل) کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت (ان پر عمل کرنے سے) رکاوٹ نہ بنے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5087، ومصباح الزجاجة: 901)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/330) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبيدة بن الأسود مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471
إسناده ضعيف
عبيدة بن الأسود مدلس وعنعن
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471