یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : إقامة الحدود
باب: حدود کے نفاذ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2539
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَحَدَ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَدْ حَلَّ ضَرْبُ عُنُقِهِ، وَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَلَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ عَلَيْهِ، إِلَّا أَنْ يُصِيبَ حَدًّا، فَيُقَامَ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرآن کی کسی آیت کا انکار کرے، اس کی گردن مارنا حلال ہے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اس پر زیادتی کرنے کا اب کوئی راستہ باقی نہیں، مگر جب وہ کوئی ایسا کام کر گزرے جس پر حد ہو تو اس پر حد جاری کی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2539]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن مجید کی ایک بھی آیت کا انکار کیا تو اسے قتل کرنا حلال ہو گیا، اور جس نے کہا کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو (اس اقرار کے بعد) کسی کو اس پر (قتل کرنے یا مال چھیننے کا) اختیار نہیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی حد والے جرم کا ارتکاب کرے تو وہ حد اس پر جاری کی جائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6042، ومصباح الزجاجة: 900) (ضعیف)» (سند میں حفص بن عمر ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1416)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن عمر العدني: ضعيف (تقريب: 1420)
والسند ضعفه البوصيري من أجله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
إسناده ضعيف
حفص بن عمر العدني: ضعيف (تقريب: 1420)
والسند ضعفه البوصيري من أجله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2539
| من جحد آية من القرآن فقد حل ضرب عنقه من قال لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله فلا سبيل لأحد عليه إلا أن يصيب حدا فيقام عليه |
Sunan Ibn Majah Hadith 2539 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي