🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. بَابُ: مَنْ سَرَقَ مِنَ الْحِرْزِ
باب: حرز (محفوظ جگہ) میں سے چرانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَأُخِذَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَجَاءَ بِسَارِقِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أُرِدْ هَذَا رِدَائِي عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ".
صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا مقصد یہ نہ تھا، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2595]
حضرت عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مسجد میں سو رہے تھے اور اپنی چادر سر کے نیچے رکھی ہوئی تھی۔ کسی نے ان کے سر کے نیچے سے چادر نکال لی۔ وہ چور کو پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں)، میری چادر اس پر صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 14 (4394)، سنن النسائی/قطع السارق 4 (4882 مرسلاً)، (تحفة الأشراف: 4943)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 9 (28)، مسند احمد (3/401، 6/465، 466)، سنن الدارمی/الحدود 3 (2345) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر مسجد یا صحرا میں کوئی مال کا محافظ ہو تو اس کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اکثر علماء اسی طرف گئے ہیں کہ قطع کے لئے حرز (یعنی مال کا محفوظ ہونا) ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2596
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثِّمَارِ، فَقَالَ:" مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ، فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، وَمَا كَانَ مِنَ الْجِرَانِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ"، قَالَ: الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں، اس شخص نے پوچھا: اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے (تو کیا ہو گا)؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی، اور سزا بھی ملے گی، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں (چوری کرنے پر) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2596]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں (کی چوری) کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پھل خوشوں میں سے (نکال کر) اٹھا کر لے جایا جائے تو (اس کا جرمانہ) اس کی قیمت اور اس کے ساتھ اتنی ہی رقم مزید (جرمانہ وصول کیا جائے گا) اور جو سکھانے کے میدان سے (لے جایا گیا) ہو تو وہ اگر ڈھال کی قیمت تک پہنچتا ہو تو اس کی سزا میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر اس نے کھایا ہے اور ساتھ نہیں لے گیا تو اسے کوئی سزا نہیں۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو بکری (رات کو) باڑے سے باہر رہ جائے (اور اسے کوئی چرا لے تو؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قیمت اور اس کے ساتھ اتنی ہی رقم مزید اور (جسمانی) سزا بھی، اور جو (بکری) باڑے میں سے چرائی جائے تو اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے جب کہ وہ ڈھال کی قیمت تک پہنچتی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/اللقطة 1 (1711)، الحدود 12 (4390)، (تحفة الأشراف: 8812)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 11 (4972)، مسند احمد (2/186) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے جو کوئی پھلوں کو منہ میں ڈال لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے اس پر کچھ نہیں ہے، اور جو اٹھا کر لے جائے اس پر دوگنی قیمت ہے، اور سزا کے لئے مار ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں