سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ
باب: جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2607
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ جَمِيعًا، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ: الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاءً، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا (راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (یعنی اپنی سوتیلی ماں) سے شادی کر لی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2607]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے ماموں (حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ) میرے پاس سے گزرے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا دے کر (کسی مہم پر) روانہ فرمایا تھا۔ میں نے کہا: ”آپ کہاں جا رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف (اسے سزا دینے کے لیے) روانہ فرمایا ہے، اس نے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی والدہ) سے نکاح کر لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 27 (4456، 4457)، سنن الترمذی/الاحکام 25 (1362)، سنن النسائی/النکاح 58 (333)، (تحفة الأشراف: 15534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/290، 292، 295، 297)، سنن الدارمی/النکاح 43 (2285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ".
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2608]
حضرت معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ نے اپنے والد حضرت قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی طرف بھیجا جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا تھا (اور مجھے حکم دیا) کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا مال ضبط کر لوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11082، ومصباح الزجاجة: 922) (حسن صحیح)» (سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی“، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن