🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: التَّغْلِيظِ فِي قَتْلِ مُسْلِمٍ ظُلْمًا
باب: مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے خون کے مقدمات کے فیصلے ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 48 (6533)، الدیات 1 (6864)، صحیح مسلم/القسامة 8 (1678)، سنن الترمذی/الدیات 8 (1396، 1397)، سنن النسائی/تحریم الدم 2 (3997)، (تحفة الأشراف: 9246)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441، 442) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور جس نے کسی کو ظلم سے قتل کیا ہو گا، اس کو سزا دی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2616
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2616]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس انسان کو بھی ظلم کے طور پر قتل کیا جاتا ہے، اس کے خون (کے گناہ) کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ملتا ہے، کیونکہ سب سے پہلے اس نے قتل کا طریقہ جاری کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الانبیاء 1 (3335)، الدیات 2 (6867)، الاعتصام 15 (7321)، صحیح مسلم/القسامة 7 (1677)، سنن الترمذی/العلم 14 (2673)، سنن النسائی/تحریم الدم 1 (3990)، (تحفة الأشراف: 9568)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 430، 433) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2617]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے خون کے مقدمات کے فیصلے ہوں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/تحریم الدم 2 (3996)، (تحفة الأشراف: 9275)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 48 (6533)، الدیات ا (6864)، صحیح مسلم/القسامة 8 (1678)، سنن الترمذی/الدیات 8 (1396، 1397)، مسند احمد (2/873) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2618
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2618]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو (عبادت میں) شریک نہیں کرتا اور کسی حرام خون میں ملوث نہیں ہوتا تو وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9937، ومصباح الزجاجة: 927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/148، 152) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن أبي خالد مدلس و عنعن
ولأول الحديث شاھد عند البخاري (129) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ الْجُوزَجَانِيِّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی مومن کا ناحق قتل ساری دنیا کے زوال اور تباہی سے کہیں بڑھ کر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2619]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نظر میں کسی مومن کو ناحق قتل کرنے سے پوری دنیا کا تباہ ہو جانا بھی کم اہمیت رکھتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1767، ومصباح الزجاجة: 928) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2620
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کے قتل میں آدھی بات کہہ کر بھی مددگار ہوا ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر «آيس من رحمة الله» اللہ کی رحمت سے مایوس بندہ لکھا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2620]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی مومن کے قتل میں آدھے لفظ کے ساتھ بھی تعاون کیا، وہ جب اللہ سے ملے تو اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا: «آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» اللہ کی رحمت سے مایوس۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13314، ومصباح الزجاجة: 929) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں یزید بن زیاد منکر الحدیث اور متروک الحدیث ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
يزيد بن زياد الشامي: متروك
وللحديث شواهد ضعيفة عند البيهقي (22/8)وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں